جماعت احمدیہ کا مختصر تعارف اور امتیازی عقائد — Page 24
جماعت احمدیہ کا مختصر تعارف سے اور یوسف سے اور موسیٰ سے اور مسیح ابن مریم سے اور سب کے بعد ہمارے نبی ﷺ سے ایسا ہمکلام ہوا کہ آپ پر سب سے زیادہ روشن اور پاک وحی نازل کی ایسا ہی اُس نے مجھے بھی اپنے مکالمہ مخاطبہ کا شرف بخشا۔مگر یہ شرف مجھے محض آنحضرت ﷺ کی پیروی سے حاصل ہوا۔اگر میں آنحضرت ﷺ کی امت نہ ہوتا اور آپ کی پیروی نہ کرتا تو اگر دنیا کے تمام پہاڑوں کے برابر میرے اعمال ہوتے تو پھر بھی میں کبھی یہ شرف مکالمہ ومخاطبہ ہرگز نہ پاتا۔کیونکہ اب بجز محمدی نبوت کے سب نبو تیں بند ہیں۔شریعت والا نبی کوئی نہیں آسکتا اور بغیر شریعت کے نبی ہو سکتا ہے مگر وہی جو پہلے امتی ہو۔پس اسی بناء پر میں امتی بھی ہوں اور نبی بھی۔اور میری نبوت یعنی مکالمہ مخاطبہ الہیہ آنحضرت ﷺ کی نبوت کا ایک ظل ہے اور بجز اس کے میری نبوت کچھ بھی نہیں۔وہی نبوت محمد یہ ہے جو مجھ میں ظاہر ہوئی ہے۔اور چونکہ میں محض ظل ہوں اور امتی ہوں اس لئے آنجناب کی اس 66 سے کچھ گسر شان نہیں۔“ (تجلیات الہیہ۔روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 411-412 مطبوعہ 2008 ) 24