جلسہ سالانہ

by Other Authors

Page 24 of 77

جلسہ سالانہ — Page 24

24 لائے تھے۔مگر اب جبکہ فتویٰ طیار ہو گیا اور بٹالوی صاحب نے ناخنوں تک زور لگا کر اور آپ بصد مشقت ہر یک جگہ پہنچ کر اور سفر کی ہر روزہ مصیبتوں سے کوفتہ ہو کر اپنے ہم خیال علماء سے اس فتویٰ پر مہر میں ثبت کرائیں اور وہ اور ان کے ہم مشرب علما بڑے ناز اور خوشی سے اس بات کے مدعی ہوئے کہ گویا اب اُنہوں نے اس الہی سلسلہ کی ترقی میں بڑی بڑی روکیں ڈال دی ہیں۔تو اس سالانہ جلسہ میں بجائے ۷۵ کے تین سوستائیس احباب شامل جلسہ ہوئے اور ایسے صاحب بھی تشریف لائے جنہوں نے توبہ کر کے بیعت کی۔اب سوچنا چاہیئے کہ کیا یہ خدا تعالے کی عظیم الشان قدرتوں کا ایک نشان نہیں کہ بٹالوی صاحب اور ان کے ہم خیال علماء کی کوششوں کا اُلٹا نتیجہ نکلا اور وہ سب کوششیں برباد گئیں۔کیا یہ خدا تعالیٰ کا فعل نہیں کہ میاں بٹالوی کے پنجاب اور ہندوستان میں پھرتے پھرتے پاؤں بھی گھس گئے۔لیکن انجام کار خدا تعالیٰ نے ان کو دکھلا دیا کہ کیسے اس کے ارادے انسان کے ارادوں پر غالب ہیں۔۱۸۹۳ء ( مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ ۳۶۶) ضمیمہ آئینہ کمالات اسلام صفحه ۱۷، ۱۸ ، روحانی خزائن جلد ۵ ) التوائے جلسہ ۲۷ دسمبر ۱۸۹۳ء ہم افسوس سے لکھتے ہیں کہ چندا ایسے وجوہ ہم کو پیش آئے جنہوں نے ہماری رائے کو اس طرف مائل کیا کہ اب کی دفعہ اس جلسہ کو ملتوی رکھا جائے۔اور چونکہ بعض لوگ تعجب کرینگے کہ اس