جلسہ سالانہ — Page 43
43 دسمبر ۱۸۹۹ء کے پر بہت کم لوگ آئے۔اس پر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے بہت اظہار افسوس کیا اور فرمایا: پر نہ آنے والوں پر اظہار افسوس ” ہنوز لوگ ہمارے اغراض سے واقف نہیں کہ ہم کیا چاہتے ہیں کہ وہ بن جائیں۔وہ غرض جو ہم چاہتے ہیں اور جس کے لئے ہمیں خدا تعالیٰ نے مبعوث فرمایا ہے۔وہ پوری نہیں ہو سکتی۔جب تک لوگ یہاں بار بار نہ آئیں اور آنے سے ذرا بھی نہ اکتائیں۔اور فرمایا۔”جو شخص ایسا خیال کرتا ہے کہ آنے میں اس پر بوجھ پڑتا ہے۔یا ایسا سمجھتا ہے کہ یہاں ٹھہرنے میں ہم پر بوجھ ہو گا۔اسے ڈرنا چاہیئے کہ وہ شرک میں مبتلا ہے۔ہمارا تو یہ اعتقاد ہے کہ اگر سارا جہان ہمارا عیال ہو جائے تو ہمارے مہمات کا متکفل خدا تعالیٰ ہے۔ہم پر ذرا بھی بوجھ نہیں۔ہمیں تو دوستوں کے وجود سے بڑی راحت پہنچتی ہے۔یہ وسوسہ ہے جسے دلوں سے دور پھینکنا چاہیئے۔میں نے بعض کو یہ کہتے سنا ہے کہ ہم یہاں بیٹھ کر کیوں حضرت صاحب کو تکلیف دیں۔ہم تو نکھے ہیں۔یوں ہی روٹی بیٹھ کر کیوں تو ڑا کر یں۔وہ یہ یا درکھیں یہ شیطانی وسوسہ ہے جو شیطان نے ان کے دلوں میں ڈالا ہے کہ ان کے پیر یہاں جمنے نہ پائیں۔“ ( ملفوظات جلد اول صفحه ۴۵۵) جلسہ پر آنے والوں کے لئے ضروری ہدایات لازم ہے کہ اس جلسہ پر جو ئی با برکت مصالح پر مشتمل ہے ہر ایک ایسے صاحب ضرور تشریف لاویں جو زاد راہ کی استطاعت رکھتے ہوں اور اپنا سرمائی بستر لحاف وغیرہ بھی بقدر