جلسہ سالانہ — Page 25
25 التواء کا موجب کیا ہے۔لہذالطور اختصار کسی قدران وجوہ میں سے لکھا جاتا ہے۔اول یہ کہ اس جلسہ سے مدعا اور مطلب یہ تھا کہ ہماری جماعت کے لوگ کسی طرح بار بار کی ملاقاتوں سے ایک ایسی تبدیلی اپنے اندر حاصل کر لیں کہ ان کے دل آخرت کی طرف بکتی جھک جائیں اور ان کے اندر خدا تعالیٰ کا خوف پیدا ہو اور وہ زہد اور تقویٰ اور خدا ترسی اور پر ہیز گاری اور نرم دلی اور باہم محبت اور مواخات میں دوسروں کے لئے ایک نمونہ بن جائیں اور انکسار اور تواضع اور راستبازی ان میں پیدا ہو اور دینی مہمات کے لئے سرگرمی اختیار کریں۔لیکن اس پہلے جلسہ کے بعد ایسا اثر نہیں دیکھا گیا۔بلکہ خاص جلسہ کے دنوں میں ہی بعض کی شکایت سنی گئی کہ وہ اپنے بعض بھائیوں کی بدخوئی سے شاکی ہیں۔اور بعض اس مجمع کثیر میں اپنے اپنے آرام کے لئے دوسرے لوگوں سے کج خلقی ظاہر کرتے ہیں گویا وہ مجمع ہی ان کے لئے موجب ابتلاء ہو گیا۔اور پھر میں دیکھتا ہوں کہ جلسہ کے بعد کوئی بہت عمدہ اور نیک اثر اب تک اس جماعت کے بعض لوگوں میں ظاہر نہیں ہوا۔اور اس تجربہ کے لئے یہ تقریب پیش آئی کہ ان دنوں سے آجتک ایک جماعت کثیر مہمانوں کی اس عاجز کے پاس بطور تبادل رہتی ہے۔یعنی بعض آتے اور بعض جاتے ہیں۔اور بعض وقت یہ جماعت سوسو مہمان تک بھی پہنچ گئی ہے اور بعض وقت اس سے کم۔لیکن اس اجتماع میں بعض دفعہ بباعث تنگی مکانات اور قلت وسائل مہمانداری ایسے نالایق رنجش اور خود غرضی کی سخت گفتگو بعض مہمانوں میں باہم ہوتی دیکھی ہے کہ جیسے ریل میں بیٹھنے والے تنگی مکان کی وجہ سے ایک دوسرے سے لڑتے ہیں۔اور اگر کوئی بیچارا عین ریل چلنے کے قریب اپنی گھڑی کے سمیت مارے اندیشہ کے دوڑ تا دوڑتا ان کے پاس پہنچ جاوے تو اس کو دھکے