جدید علم کلام کے عالمی اثرات

by Other Authors

Page 138 of 156

جدید علم کلام کے عالمی اثرات — Page 138

۱۳۸ حضرت اقدس نے ایک بار فرمایا :۔ہ میں اپنی جماعت کو رشیا کے علاقہ میں ریت کی مانند دیکھتا ہوں " تذکره طبع سوم صفحه ۱۳ ۸ - الناشر: الشركة الاسلامیہ ربوہ) بہر کیف افکار و خیالات کے عالمی انقلاب کے بعد حضرت مسیح موعود ومد می مسعود کے جدید علم کلام کی اصل غرض و غایت پوری ہو جائے گی یعنی توحید اور رسالت محمدی کی فتح ہوگی اور باطل ازموں اور جھوٹے مذہبوں کی صف پیسٹ دی جائے گی۔چنانچہ حضرت اقدس نہایت پر قوت و شوکت الفاظ میں فرماتے ہیں :- و نئی زمین ہوگی اور نیا آسمان ہو گا۔اب وہ دان نزدیک آتے ہیں کہ جو سچائی کا آفتاب مغرب کی طرف سے پڑھے گا۔قریب ہے کہ سب تمہیں ہلاک ہوں گی مگر اسلام اور سب حربے ٹوٹ جائیں گے مگر اسلام کا آسمانی تو یہ کہ گے خوب وہ نہ ٹوٹے گا اور نہ گند ہو گا جب تک دجالیت کو پاش پاش نہ کر دے۔وہ وقت قریب ہے کہ خدا کی سچی تو حید جس کو بیا باتوں کے رہنے والے اور تمام تعلیموں سے غافل بھی اپنے اندر محسوس کرتے ہیں ملکوں میں پھیلے گی۔اس دن کوئی مصنوعی کفارہ باقی رہے گا اور نہ کوئی مصنوعی خدا۔اور خدا کا ایک ہی ہاتھ کفر کی سب تدبیروں کو باطل کر دے گا لیکن نہ کستی تلوار سے اور نہ کسی بندوق سے۔بلکہ مستعد روحوں کو روشنی عطا کرنے سے اور پاک دلوں پر ایک نور اتارنے سے۔تب