جدید علم کلام کے عالمی اثرات

by Other Authors

Page 31 of 156

جدید علم کلام کے عالمی اثرات — Page 31

۳۱ دین کی خاطر قربانیاں پیش کرنا جو آروں سے چیر دیئے گئے اور تختہ دار پرائٹ کا دیئے گئے۔علماء بدترین خلائق ہوں گے۔دوسروں کو قتل کرائیں گے اور خود بھی۔چوروں کی طرح قتل کئے جائیں گے۔مالدار تفریح کے لیے ، متوسط طبقہ کے مسلمان تجارت کے لیے اور فقیر دریا کاری اور گداگری کے لیے حج کریں گے۔بادشاہوں کا حج بھی تفریح کیلئے ہوگا۔حرمین شریفین میں گانے اور موسیقی کے آلات داخل ہو جائیں گے۔جور و فساد بڑھ جائے گا۔بدی ظاہراً ہو گی مگر نیکی سے روکا جائے گا۔قتل و غارت میں زبردست اضافہ ہو جائے گا اور خونریزی معمولی بات سمجھی جائے گی کھیل تماشے بہت ہوں گے۔خدا کو گالیاں دی جائیں گی۔قرآن اور باطل کا سننا آسان ہوگا۔مساجد بظاہر آبادیگر فتنوں کی آماجگاہ ہوں گی۔ان میں تصادم ہوں گے۔اور ہر فتنہ اُنہی سے اُٹھے گا۔حج اور جہاد غیر اللہ کے لیے ہو گا۔طاعون کا زور ہوگا۔فضائی جنگیں لڑی جائیں گی۔حجاز سے آگ اُٹھے گی (پٹرول برآمد ہوگا)۔یہودی فلسطین میں اکٹھے ہو جائیں گے اور وادی قدس پر یہودیوں کا قبضہ ہو جائے گا۔حضرت مهدی علیہ السلام محمدی پر کمر کے حامل اور احمدی بادشاہت کے علمبردار ہوں گے (" صاحب الراية المحمدية والدولة الاحمدیہ) آپ کا ظہور ہجرت نبوئی کے ۱۱۴۴ سال بعد مقدر ہے۔یہود کے ارض مقدس میں اجتماع سے قبل آپ ظاہر ہو چکے ہوں گے۔آپ کے زمانہ میں جبریل نازل ہوں گے اور رمضان میں آواز آئے گی کہ حق