جدید علم کلام کے عالمی اثرات — Page 150
۱۵۰ پھر اس نے مجھ سے حضرت مرزا صاحب کی کتاب مانگی لیکن میں نہیں دے سکتا تھا آخر اُس نے کہا کہ جب دوبارہ آؤ تو میرے لیئے ضرور اُن کی کتا ہیں لانا جو عربی اور فارسی میں ہوں۔بایزید سے واپس ہو کر بازرگان نام گاؤں میں پہنچا۔بایزیدی شہر ایک بلند پہاڑ کے غربی دامن میں واقع ہے۔باندرگان میں چند ماہ رہ کر مجھے واپسی کا اختیار دیا گیا اور ایک بڑا قافلہ میرے ماتحت کیا گیا۔ترکوں سے جنگ شروع ہو چکی تھی لیکن میں نے مناسب سمجھا کہ ترک دوستوں سے بھی ملاقات کرتا جاؤں وہ بہت شرافت سے پیش آئے اور میری روانگی کے وقت آبدیدہ ہوئے۔راستہ خطرناک ہو چکا تھا۔میں ایرانی قونصل خانے میں گیا اور اُن سے راہ داری کا پروانہ حاصل کیا۔تاکہ راستے میں کوئی دق نہ کر سکے۔ایرانی سرحد پر پہنچے تو ماکو شہر میں روسی فوجوں کا اجتماع تھا۔یہ وحشی بہت تکلیف دیتے تھے۔میں روسی قونصل کے پاس گیا جو پہلے سے ہی ہمارا واقف تھا۔ایک روسی کرنل کی گفتگو حضرت مرزا صاحب کے متعلق اُس قو تصل کے پاس ایک روسی کرنل بیٹھے تھے جو مسلمان تھے اور قفاز کے رہنے والے تھے۔کرنل نے مجھے ایک خط لکھ دیا کہ یہ انگریزوں کے آدمی ہیں ان کو راستے میں تکلیف نہ دی جائے۔لیکن وہاں سے رخصت ہو اور اسی کے وقت میں باکی کے لیے بازار سے ہوتا ہوا چلا۔مجھے اُس وقت پھر دوبارہ وہی کرنل آکر ملا اور بذریعہ ترجمان گفتگو کرنے لگا اور میرے ساتھ کیمپ میں آگیا۔بہت خلیق آدمی تھا۔اثناء گفتگو میں میں حیران رہ گیا جب اس نے یہ دریافت کیا کہ آپ لوگوئی مرزا احمد سے بھی واقفیت ہے یا نہیں۔اور وہ چاہتا تھا کہ چھی طرح مفصل حالات دریافت کرے۔اُس کا خیال تھا کہ ہندوستان اور افغانستان