جدید علم کلام کے عالمی اثرات — Page 135
۱۳۵ یہ دیوانہ ٹوٹے گی اور دنیا ایک زبر دست تغیر دیکھے گی۔(صفحہ ۱۰) روسی صدر میخائل گوربا چوف تشکیل نو “ میں لکھتے ہیں :- و ہمیں ایسی دنیا چاہیئے جس میں جنگ نہ ہو ہتھیاروں کی دور نہ ہو۔ایٹمی ہتھیار نہ ہوں ظلم و تشدد نہ ہو محض اس لیے نہیں کہ ہمیں اپنی قومی ترقی کے لیے ان حالات کی ضرورت ہے بلکہ اس لیے کہ معروضی حالات کو دیکھتے ہوئے یہ سب باتیں پورے کرہ ارض کے لیے ضروری ہیں۔ہماری نئی سوچ اس سے بھی ایک قدم آگے جاتی ہے۔آج دنیا نہ صرف ایٹمی تیا ہی کے خطرے کے سائے میں جی رہی ہے بلکہ تمہیں بہت سے اہم مگر لا ینحل سماجی مسائل کا بھی سامنا ہے۔سائنسی اور تیکنیکی ترقی سے پیدا ہونے والے کھچاؤ کا بھی تدارک کرنا ہے۔اور عالمی مسائل سے پیدا ہونے والی بدمزگی کو بھی دور کرنا ہے۔آج عالم انسانیت کو ایسے مسائل در پیش ہیں جیسے پہلے کبھی نہ تھے۔اور اگر ہم سب مل قبل کر ان مسائل کا متفقہ حل نہیں تلاش کرتے تو ہمارا مستقبل خطرے میں پڑھائے گا۔آج تمام ملک کسی نہ کسی صورت میں ایک دوسرے کے محتاج ہیں اور ہتھیاروں کا ڈیر خاص طور سے ایٹمی میزائیلوں کے ذخیرے عالمی جنگ کی ابتداء کو ممکن بنا سکتے میں خواہ اس کا کوئی جواز ہو یا نہ ہو اور خواہ وہ حادثاتی طور پر اچانک چھڑ جائے خواہ اس کا سب میکنیکی غلطی ہو یا افسانی غلطی نگرانی ایٹمی جنگ سے روئے زمین پر ساری مخلوقات تباہی کے منہ میں چلی۔