جدید علم کلام کے عالمی اثرات

by Other Authors

Page 126 of 156

جدید علم کلام کے عالمی اثرات — Page 126

کا مصنف ہو سکتا۔یہی وجہ ہے کہ جدید سائنسی معلومات ہی نے ہمیں قرآن کریم کی بعض آیات کو سمجھنے کا موقع دیا ہے جن کی توضیح کرنا اس زمانہ میں ممکن نہ تھا۔بائیل اور قرآن کے ایک ہی مضمون کے کئی بیانات کے موازنہ سے وہ بنیادی اختلافات ظاہر ہوتے ہیں جو اول الذکر کے بیانات کے جو سائنسی اعتبار سے قابل قبول ہیں اور موخرالذکر کے بیانات کے جو جدید معلومات سے ہم آہنگی رکھتے ہیں درمیان دکھائی دیتے ہیں۔مثلاً تخلیق اور طوفان عالمگیر کے واقعات ہیں۔البتہ بائیل کا ایک انتہائی ضروری تکملہ جو قرآن مجید کے متن میں خروج کی تاریخ کے موضوع پر ہے اثر یاتی تحقیقات کے ساتھ بے انتہاء مطابقت رکھتا ہے۔ی تحقیقات حضرت موسی علیہ السلام کے زمانہ کی تعیین سے متعلق ہے۔علاوہ ازیں دیگر موضوعات پر قرآن اور بائیل میں بڑے اختلافات ہیں۔یہ اختلافات اس دعوئی کو غلط ثابت کر دیتے ہیں میں میں بغیر ذرا سی شہادت کے یہ کہا جاتا ہے کہ حا صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کا متن پیش کرنے کے لیے بائبل کی نقل کر ڈالی۔جب سائنس سے متعلق بیانات کا جو ان احادیث کے مجموعہ میں پائے بھاتے ہیں جن کا انتساب حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم سے کیا جاتا ہے لیکن جن میں سے اکثر مشتبہ ہیں (حالانکہ وہ اُس دور کے عقائد کی عکاسی کرتی ہیں ، قرآن میں شامل اُسی قسم کی معلومات سے تقابلی موازنہ کیا جاتا ہے تو غیر یکسانیت اس قدر واضح ہوتی ہے کہ ان دونوں کے ایک ہی ماخذ ہونے کا تصور خارج از بحث ہو جاتا ہے۔حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کی معلومات کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے یہ بات ناقابل تصور معلوم ہوتی ہے کہ قرآن کے بہت سے وہ بیانات جو سائنس سے متعلق ہیں کسی بشر کا کام ہو سکتے ہیں۔لہذا یہ بات مکمل طور پر سمیع ہے کہ قرآن کو وحی آسمانی کا اظہار سمجھا جائے لیکن ساتھ ہی اُس استناد کے سبب جو اس سے فراہم