جدید علم کلام کے عالمی اثرات

by Other Authors

Page 73 of 156

جدید علم کلام کے عالمی اثرات — Page 73

۷۳ مولانا ابو الجمال احمد مکرم صاحب عباسی چڑیا کوئی ارکن مجلس اشاعۃ العلوم حیدر آباد دکن) احمدیت کے علم کلام سے بہت متا نہ تھے۔انہوں نے اپنی معرکہ آراء کتاب حکمت بالغہ جلد ۲ صفحہ ۱۲۶ تا ۱۴۲ میں حاضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی تصریحات کی روشنی میں پادریوں کو دقبال اور ریل کو خیر د قبال قرار دیا ہے۔اُن کی یہ تالیف مطبع دائرۃ المعارف نظامی حیدر آباد دکن میں چھپی تھی۔ر تاریخ در جمادی الاولی ۱۳۳۲ھ مطابق ۵ را پریل ۱۶۱۹۱۴ تیسرا گوشتہ جدید علم کلام کے مہتم بالشان انقلاب کا یہ ہے کہ اس کے اثرات صرف ان شخصیات تک محدود نہیں جو حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی مصری کا شرف رکھتی تھیں بلکہ بعد کی تخصیات پر بھی مندر ہے جن کے اسماء گرامی یہ ہیں۔مولانا عبید اللہ صاحب سندھی ، علامہ عنایت اللہ خان المشرقی بانی خاکسار تحریک مولانا سید ابوالاعلیٰ صاحب مودودی بانی جماعت اسلامی، مولانا عبد الرحمن صاحب طا ہر سورتی موسس انجمن ترقی عربی پاکستان، مولانا الحاج قاری محمد طیب صاب مہتمم دارالعلوم دیوبند (رفیق اعزازمی ندوۃ المصنفین)، مولاناستیدا بوالحسن صاحب ندوی چیر مین دارالمصنفین اعظم گرت و بانی رکن رابطہ عالم اسلامی مکه معظمه ان مولانا محمد موسی صاحب مدرس جامعہ اشرفیہ لاہور، مولانا انند یارسان صاحب چکڑالہ ضلع میانوالی لیفٹیننٹ کرنل (ریٹائرڈ) خواجہ عبد الرشید صاب مولانا بدرالدین صاحب بدر جالندھری۔به مولانا صاحب اسلامی یونیورسٹی مدینہ منورہ کی اس اعلی، مغربی اکیڈیمی دمشق، عرب یونیورسٹیوں کی فیڈریشن کی مجلس انتظامیہ (مراکش) اور اردن کی مجلس علمی کے رکن بھی ہیں۔۱۹۸۰ء میں آپ شاہ فیصل ایوارڈ کے سختی قرار پائے تھے۔