جدید علم کلام کے عالمی اثرات

by Other Authors

Page 72 of 156

جدید علم کلام کے عالمی اثرات — Page 72

۷۲ صورت حال ایسی ہو گئی کہ انہوں نے سمجھا، ہم نے مسیح کو مصلوب کر دیا حالانکہ نہیں کر سکے تھے " تفسیر میں مزید لکھتے ہیں یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ حضرت شیخ کی موت مشتبہ ہو گئی وہ زندہ تھے مگرا نہیں مردہ سمجھے لیا گیا۔" ( ترجمان القرآن جلد اول صفحه ۳۷۵ مطبوعہ جید برقی پریس دہلی نومبر ۱۹۳۰) مولانا صاحب کی خدمت میں اُن کے ایک مرید ڈاکٹر انعام اللہ خان نے بلوچستان سے بذریعہ مکتوب درخواست کی کہ انہوں نے اختبار وکیل (امرتسر میں بانی جماعت احمدیہ کے وصال پر جو شیره در قم فرمایا تھا اس پر خط تنسیخ پھیلنے دیں اور ایک کتاب حیات مسیح کے موضوع پر تصنیف فرما دیں۔مولانا نے کیا لطیف جواب دیا ؟ فرمایا :- وفات مسیح کا ذکر خود قرآن میں ہے۔مرزا صاحب کی تعریف یا برائی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اسلئے کہ ے تو برا ہے تو بھلا ہو نہیں سکتا اسے ذوق وہ بُرا خود ہے جو تجھ کو برا جانتا ہے " لملفوظات آزاد صفحه ۱۳۰ مرتب محمد اجمل خان مکتبه ما حول کراچی طبیع اول اکتوبر ۱۹۶۱ء) مولانا اپنے ایک مکتوب میں تحریر فرماتے ہیں کہ :۔" حیات مسیح کا عقیدہ اپنی نوعیت میں ہر اعتبار سے ایک مسیحی عقیدہ ہے اور اسلامی شکل و لباس میں نمودار ہوا ہے کیا نقش آنها و صفحه ۱۲)