جدید علم کلام کے عالمی اثرات — Page 49
۴۹ کی طرف سے ایک رحمت ہے اور عرب کے لوگ الہی رحمت کو قبول کرنے کے لیے سب سے زیادہ حقدار اور قریب اور نزدیک رہیں اور مجھے خدا تعالیٰ کے فضل کی خوشبو آرہی ہے۔بر صغیر پاک و ہند بر صغیر پاک و ہند مذاہب عالم کا عجائب گھر ہے۔اسی مبارک خطہ میں حضرت بانی احمدیت پیدا ہوئے، اور اسی میں اپنی عالمگیر دعوت کا آغاز فرمایا اور یہیں سے آپ کا انقلاب انگیز لڑ پھر چھپ کر اکناف عالم تک پہنچا اور اسی سے دنیا بھر کے مفکروں اور مذہبی راہ نماؤں کو آپ کے جدید علم کلام سے تعارف ہوا۔غلبہ دین کا رُوح پرور نظارہ اس عظیم کلام نے آپ کے دعوی مسیحیت و صیدویت کے چھ سال کے اندر اندر مذاہب عالم سے اپنی برتری کا لوہا منوا لیا تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ متحدہ ہندوستان کے مشہور مذہبی نمائند ے دسمبر ۱۸۹۶ء میں ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوئے اور لاہور میں شہرۂ آفاق مذاہب کا نفرنس کا انعقاد عمل میں آیا۔اس کا نفرنس میں حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کا ر قم فرموده مقاله اسلامی اصول کی فلاسفی دیگر تمام مضامین پر بالا رہا۔اور وسطی ایشیا میں " اس کی دھوم مچ گئی۔اس تاریخی حقیقت کے ثبوت میں اُس دور کے مسلم پریس کی نمونہ صرف دو آراء ہدیہ قارئین کی جاتی ہیں۔