جدید علم کلام کے عالمی اثرات — Page 41
۴۱ میں جا پڑے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں دیکھ کر یقینا فیصلہ کریں گے کہ ان لوگوں کا رستہ میرا رستہ نہیں اور نہ آخری زمانہ یکم مسلمانوں کا مذہب میرا مذہب ہے۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے ابتداء دون سیت میں ہیں یہ پیشگوئی فرما دی تھی کہ اس للہ جل شانہ قرآن شریف میں فرماتا ہے يَا حَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيهِمْ مِّن رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِمُونَ یعنی اسے حسرت بندوں پر کہ ایسا کوئی نبی نہیں آتا جس سے وہ ٹھٹھا نہ کریں۔ایسا ہی قرآن شریف کے دوسرے مقامات میں جا بجا لکھا ہوا ہے کہ کوئی نبی ایسا نہیں آیا جس کو لوگوں نے بالاتفاق مان لیا ہو۔اب اگر حضرت مسیح بن مریم نے در حقیقت ایسے طور سے ہی اُترنا ہے جس طور سے ہمارے علماء یقین کیئے بیٹھے ہیں تو ظاہر ہے کہ اس سے کوئی فرد بشر انکار نہیں کر سکتا لیکن ہمارے علماء کو یا درکھنا چاہیے کہ ایسا کبھی نہیں ہو گا یا ہوگا۔" ازاله او بام جلد ۲ صفحه ۲۸۰ طبع اول ۶۱۸۹۱) راسی کتاب میں آپ نے اپنی جماعت کے مخلصین کو بتایا کہ اس آج تم تھوڑے ہو اور تحقیر کی نظر سے دیکھے گئے ہو اور ایک ابتلاء کا وقت تم پر ہے اسی سنت اللہ کے موافق جو قدیم سے جاری ہے۔ہر ایک طرف سے کوشش ہوگی کہ تم ٹھو کر کھاؤ اور تم ہر طرح سے بتائے بھاؤ گے اور طرح طرح کی باتیں تمہیں سکنی پڑیں گی اور ہر یک جو تمہیں زبان یا ہاتھ سے دُکھ دے گا اور خیال کرنے کا کہ اسلام کی حمایت کر رہا ہے یا (ایضاً صفحه ۴۲)