جدید علم کلام کے عالمی اثرات — Page 39
۳۹ کے علاوہ الاستاد عباس محمود عقاد، سید قطب رہنما الاخوان السلمون، الدكتوبر محمود بن الشریف پروفیسر اکنامکس کالج مصر، سید محمد حسن وزارت معارف اور الشیخ عبدالله القیشادی غزہ بھی میں رائے رکھتے ہیں۔تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو خاکسار کا رسالہ وفات شیخ اور احیائے اسلام نامستر نظارت اشاعت بوه) لبنانی عالم اشیخ مصطفی غلامینی نے " خیار المعقول فی سیرت الرسول میں لکھا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے لے کر حضرت علیہ السلام تک ہر نبی نے ہجرت کی ہے۔اور السید محمد رشید رضا نے رسالہ "المنار" جلد 1 صفحہ 90-91 میں اور السید عباس محمود العماد نے حیات المسيح في 16 التاريخ وكشوف العصر الحدیث (مطبوعہ بیروت ۱۹۶۹ء) کے صفحه ۲۵ و ۲۵۶ میں تسلیم کیا ہے کہ عقلی، نقلی اور تاریخی اعتبار سے سرینگر کے محلہ خانیار میں واقع مقبرہ حضرت مسیح علیہ السلام ہی کا ہے۔ان تفصیلات سے عیاں ہے کہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے جدید کیم کلام نے عرب دنیا کے مفکرین و مدبرین کے اذہان و قلوب میں تہلکہ مچا دیا ہے حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے وسط ۱۸۹۱ء میں یہ انکشاف کر کے پوری مسلم دنیا کو چونکا دیا کہ روس اور انگریزی یا جوج ماجوج میں (ازالہ او ہام حصد و سفراط مطبوعہ ذی الحجہ ۱۳۰۸ د/ جولائی ۶۱۸۹۱) به نظر یہ بھی عرب ملکوں میں روز بروز مقبولیت حاصل کر رہا ہے۔چنانچہ علامہ اشیخ عبدالرحمن بن ناصر بن سعدی اور نے اس کتاب کا اردو ترجمہ جناب منہاج الدین اصلاحی صاحب نے کیا ہے اور پاکستان کو پریٹو پبلشر لا ہور نے چھپوایا ہے مگرافسوس قبر میم سے متعلق علامہ عقاد کے افکار اس میں سے حذف کر دیئے گئے ہیں۔انا للہ وانا اليه راجعون۔