جدید علم کلام کے عالمی اثرات — Page 25
گھرال یڈووکیٹ ہائی کورٹ۔ناشر مکتب الوکیل عزیز بھٹی شہید روڈ گجرات - اکتوبر ۶۱۹۸۸ ) پاکستان کے ایک اور قانون دان جناب حسین شاہ صاحب ایڈووکیٹ نے اپنی کتاب " آمریت کے سائے میں بھی اُن نخونی اور دردناک مظالم پر روشنی ڈالی ہے جو ضیاء دور میں کلمہ توحید کے پروانوں پر نہایت بے دردی کے ساتھ ڈھائے گئے اور بتایا ہے کہ کس طرح بہت سی احمدی عبادتگاہوں کو یا تو مسمار کر دیا گیا یا سر بمہر کر دیا گیا۔اسی طرح را ہوالی ، بھکر، ملتان، گوجرانوالہ اور جھنگ میں قادیانی جماعت کی مساجد کو آگ لگا کر گرا دیا گیا مگرحکومت ک طرف سے مجرموں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی جبکہ بعض مقامات پر مقامی حکام کے احکام کے تحت اُن کی موجودگی میں کلمہ طیبہ کھرچ کر مٹا دیا گیا۔مثال کے طور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کوئٹہ اور سب ڈویژنل مجسٹریٹ راولپنڈی کے حکم پر قادیانی جماعت کی مساجد سے کلمہ طیبہ منا دیا گیا۔" (صفحہ ۳۸۲) اس کے بعد جناب حسین شاہ صاحب اید و و کیٹ بلا جرم قتل کے زیر عنوان لکھتے ہیں :۔قادیانی جماعت کیے بہت سے افراد کو بغیر کسی جرم یا گناہ کے کھلے مقامات پر دن وہاڑے قتل کر دیا گیا لیکن حکومت کی طرف سے مجرموں کو گرفتار کرنے یا قرار واقعی سزادینے کے لیے قانونی مشیری کو خاموش کر دیا گیا۔قتل ہونے والوں میں بعض افراد بڑی اہمیت کے حامل تھے جن میں سے حسب ذیل قابل ذکر ہیں۔(1) پروفیسر عقیل بن عبد القادر - آپ امراض چشم کے اہر ڈاکٹر اور لیاقت میڈیکل کالج میں شعبہ امراض چشم کے سربراہ تھے آپ