جدید علم کلام کے عالمی اثرات

by Other Authors

Page 136 of 156

جدید علم کلام کے عالمی اثرات — Page 136

١٣٩ جائے گی۔سب لوگ متفق ہیں کہ ایسی ایٹی جنگ میں نہ کوئی جیتنے والا بچے گا نہ ہارنے والا ر ہے گا۔کوئی بھی باقی نہ رہے گا۔یہ خطرہ جان لیوا ہے۔اور پوری انسانیت کے لیے ہے " تشکیل نو صفحه ۱۵- ناشر ترجمہ پیپلز پبلشنگ ہاؤس لاہور) الغرض نقشه عالم حیرت انگیز طور پر بدل رہا ہے جو اس بات کی نماز می کرتا ہے کہ امن کے شہزادہ کی عالمگیرد حوت من و صلح ہرگز بے اثر دور رائیگاں نہیں جاسکتی اور جلد یا بدیر دنیا کے مذہبی و سیاسی راہ نما ، مفکر وادیب اور سائنسدان یقیناً اس طرف پوری توجہ دیں گے۔یہی وہ وقت ہوگا جبکہ جہان نو کی تعمیر ہو گی اور حضرت اقدس کا یہ الہام ہر اعتبار سے اور پوری شان و شوکت کے ساتھ ملی شکل اختیار کرلے گا کہ : يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضِ غَيْرَ الْأَرْضِ یعنی زمین کے باشندوں کے خیالات اور رائیں بدلائی جائیں گی۔الهام در در مارچ ۶۱۸۹۳- تذکر صفحه ۲۳۲ طبع سوم ۶۱۹۶۹ ) ایک دفعہ حضرت مولانا نورالدین (خلیفہ المسیح الاول) نے حضور کی خدمت اقدس میں عرض کیا کہ حضورتو اسلام کی اشاعت یورپ اور امریکہ میں کرنا چاہتے ہیں اور وہاں کے لوگ مذہب کے نام سے متنفر ہو رہے ہیں ، فرمایا اچھا ہے تختی صاف ہو رہی ہے نقش اچھا جمے گا " (مجدد اعظم جلد سوم صفحہ ۱۷ از ڈاکٹر بشارت احمد صاحب مطبوعہ لاہور۔جنوری ۶۱۹۴۴ ) حضرت مسیح موعود کی نظر میں آراء کی تبدیلی کا تصور کیا تھا ؟ اسکی ایک جھلک ہمیں ۹۸-۱۸۹۷ء کے ایک عجیب واقعہ میں ملتی ہے۔حضرت مفتی