جدید علم کلام کے عالمی اثرات — Page 70
جس کا انہوں نے بر ملا اخضار فرمایا ، اخبار محکم ( قادیان) نے اسپر مارچ ۶۱۹۰۵ کی اشاعت میں شرف ہندوستان کے زیر عنوان اُن کا کلام چھپا جس کا ایک شعر یہ تھا۔گوتم کا جو وطن ہے جاپان کا جرم ہے عینی کے عاشقوں کا چھوٹا یروشلم ہے (صفحہ (1) علامہ نے دوسرے مصرعہ پر ھاشیہ میں تحریر فرمایا بعض کے خیال میں حضر مسیح علیہ السلام بھی کشمیر میں مدفون ہیں۔آپ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی اس تحقیق سے پوری طرح متفق تھے کہ بینی اسرائیل کے گمشدہ قبائل افغانستان اور کشمیر میں آباد ہو گئے تھے جناب محمد عبدالہ قریشی کا بیان ہے کہ اقبال کشمیریوں کو یہودی تصور کرتے تھے اور کہتے تھے کہ اُن کے عادات و خصائل اور شکل و شمائل افغانوں سے ملتے جلتے ہیں جو بنی اسرائیل ہیں اور اس معاملے میں اُن کو یہاں تک غلو تھا کہ ایک مرتبہ انہوں نے یہ خیال بھی ظاہر کیا کہ فارڈ ریڈنگ وائسرائے ہند کے پاس ایک یادداشت بھیجنی چاہئیے جس کا مضمون یہ ہو کہ تم بھی بنی اسرائیل ہو اور کشمیر کے لوگ بھی۔ان کو دوہری غلامی سے نجات دلا کر نیکی اور بھلائی کی مستقل یادگار چھوڑ جائیے ، احیات قبال کی گمشدہ کڑیاں ، صفحہ ۱۶۲ از محمد عبداللہ قریشی ناشر بزم اقبال کلب روڈ لاہور طبع اول مئی ۶۱۹۸۲ علامہ سراقبال کی نظموں میں احمدی نظریات کے نقوش کا سراغ لگانا کوئی مشکل مرنہیں صرف چند اشعار ملاحظہ ہوں :- ہو چکا گو قوم کی شان جلابی کا ظہور ہے ابھی باقی گرمشان جمالی کا ظہور بانگ درا صفحه ۱۹۵)