جدید علم کلام کے عالمی اثرات

by Other Authors

Page 69 of 156

جدید علم کلام کے عالمی اثرات — Page 69

49 خیالات کی فتح کے نقارے بج گئے ہیں۔اور معراج خاتم ، در نبع ، تونی ایک ایک ، تابوت ، جن ، قمر اشتبه ، قتل نفس ، ربوه ، کشف ساق ، شق قمر، مع نزول نمل اور وحی، وغیرہ متعدد الفاظ کی تشریح میں احمدیت کے نقطہ نگاہ کی برتری نمایاں ہو گئی ہے۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے کا مصلیب کی حیثیت سے صلیبی فتنہ کے خلاف دلائل و براہین کا زبر دست اسلحہ خانہ یاد گار چھوڑا ہے میں سے دجالیت کی دھجیاں فضائے بسیط میں ہمیشہ کے لئے بکھر گئی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ پادریوں کی یلغار کو روکنے کے لیے آپ کا علم کلام ہی سب سے کارگر ہتھیار ثابت ہوتا ہے جس کا ایک نمونہ کتاب آئینہ حقائق قرآن ہے جو اسلامی مشن سنت نگر لاہور نے پادری سلطان احمد صاحب کے چودہ سوالوں کے جواب میں شائع کی ہے۔کتاب اول سے آخر تک احمدی علم کلام سے مسلح ہے اور اس کی اثر انگیزی، برجستگی اور تاثیر کا سب راز بھی اسی میں پوشیدہ ہے۔دوسرا گوشه فکری و علمی انقلاب کا یہ ہے کہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے دینی افکار و خیالات نے آپ کی ہمعصر نامور شخصیات کے لڑ پچر پر گہرا اثر ڈالا ہے جن میں سے تین خاص طور پر قابل تذکرہ ہیں۔شاعر مشرق علامہ ڈاکٹر سر محمداقبال امام بہنڈ مولانا ابوالکلام آزاد - مولانا ابو الجمال احمد مکرم صاحب عباسی، چریا کوٹی۔شاعر مشرق علامہ ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب نے اپنے ایک مقالہ میں جو رسالہ دی انڈین اینٹی کو بری ) جلد ۲۹ ستمبر ۱۹ ء میں شائع ہوا حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کو جدید ہندی مسلمانوں میں سب سے بڑا دینی مفکر تسلیم کیا۔احمدیت کے بنیادی مسئلہ مسیح ناصری کی وقتی اور اُن کے تیل کے طور کا تخیل ان کی نگاہ میں مقبولیت کا پہلو لیے ہوئے تھا