جدید علم کلام کے عالمی اثرات

by Other Authors

Page 58 of 156

جدید علم کلام کے عالمی اثرات — Page 58

۵۸ بات ایک آدھ ہی ہوتی۔تقریریں عموماً کمزور بھی خیالات کی تھیں بنجر مرزا صاحب کے لیکچر کے جو اُن سوالات کا علیحدہ علیحدہ مفصل اور مکمل جواب تھا اور جس کو حاضرین بھلسہ نے نہایت ہی تو جہ اور دیسی سے سنا اور بڑا بیش قیمت اور عالی قدر خیال کیا۔ہم مرزا صاحب کے مرید نہیں ہیں نہائی سے ہم کو کوئی تعلق ہے لیکن انصاف کا خون ہم کبھی نہیں کرسکتے اور نہ کوئی سلیم فطرت اور صحیح کاشنی اس کو روا رکھ سکتا ہے۔مرزا صاحب نے کل سوالوں کے جواب (جیسا کہ مناسب تھا) قرآن شریف سے دیئے۔اور تمام بڑے بڑے اصول و فروع السلام کو دلائل عقلیہ اور براہین فلسفہ کے ساتھ مبرہن اور مزین کیا۔پہلے عقلی دلائل سے الہیا کیے ایک مسئلہ کو ثابت کرنا اور اس کے بعد کلام الہی کو بطور حوالہ پڑھنا ایک عجیب شان دکھاتا تھا۔مرزا صاحب نے نہ صرف مسائل قرآن کی فلاسفی بیان کی بلکہ الفاظ قرآنی کی فلالوجی اور فلانسونی بھی ساتھ ساتھ بیان کر دی۔غرضنکہ مرزا صاحب کا لیکچر بہ بیت مجموعی ایک مکمل اور حاوی لیکچر تھا جس میں بے شمار معارف و حقائق وحکم و اسرار کے موتی چمک رہے تھے اور فلسفہ الہیہ کو ایسے ڈھنگ سے بیان کیا گیا تھا کہ تمام اہل مذاہب ششدر رہ گئے کسی شخص کے لیکچر کے وقت اتنے آدمی جمع نہیں تھے جتنے کہ مرزا صاحت کے لیکچر کے وقت۔تمام ہال اور نیچے سے بھر ہا تھا تھا اور سامعین ہمہ تن گوش ہو رہے تھے۔مرزا صاحب کے لیکچر کے وقت اور دیگر سپیکروں کے لیکچروں میں امتیاز کے لیے اس قدر کافی ہے کہ مرزا صاحب کے لیکچر کے وقت خلقت اس قدر آگرمی جیسے شہد