جدید علم کلام کے عالمی اثرات — Page 111
کھنا چاہیے۔میرا ایمان ہے کہ اگر ایسا شخص موجودہ زمانے میں اقتدار سنبھالے تو وہ موجودہ مسائل ایسے رنگ میں حل کر سکتا ہے کہ دنیا امن اور مسرت سے معمور ہو جائے گی۔ب یورپ اسلام کی تعلیمات کو سمجھنے لگ گیا ہے اور اگلی صدی میں یورپ اپنے مسائل کو حل کرنے میں اس دین کی افادیت کو اور بھی زیادہ سلیم کرنے کا اہل ہوگا۔یہی وہ نقطہ نگاہ ہے جس کی روشنی میں میری اس پیشگوئی کو سمجھنا چاہیئے۔آجکل بھی میرے ملک اور یورپ کے بہت سے باشند سے اسلام کو قبول کر چکے ہیں اور یورپ کو حلقہ بگوش اسلام کرنے کی مہم کا آغاز ہو چکا ہے یہ بعض دیگر مستشرقین کے تاثرات ا لینارڈ (URG LEONARD, ARTHURG) لکھتا ہے :۔ر حضرت محمد عظیم محض اس لیئے ہیں کہ وہ ایک روحانی پیشوا تھے۔انہوں نے ایک عظیم ملت کو جنم دیا۔اور ایک عظیم سلطنت قائم فرمائی۔بلکہ ان سب سے آگے بڑھ کر یہ کہ ایک عظیم عقیدہ کا پرچار کیا۔مزید بال اس لیئے بھی عظیم تھے کہ وہ اپنے آپ سے بھی نکلس و وفادار تھے، اپنے امتیوں سے بھی مخلص تھے اور اور اپنے اللہ سے بھی مخلص و وفادار تھے۔ان باتوں کو سلیم کرتے ہوئے یہ ماننا پڑتا ہے کہ اسلام ایک کامل سچا مذہب ہے، جو اپنے