اتمام الحجّة — Page 75
اتمام الحجة ۷۵ اردو تر جمه و کفرونی و لعنونی من غیر علم اور انہوں نے بغیر علم کے میری تکفیر کی اور مجھے ملعون ليستروا الأمر على الطالب ٹھہرایا تا کہ وہ اس معاملے پر طالب حق کے لئے وقالوا كافر كذاب، واتبعوا پردہ ڈال دیں اور انہوں نے کہا کا فر ہے، کذاب دأب الذين خلوا من قبلهم من ہے۔انہوں نے اپنے سے پہلے گزرے ہوئے تباہ أهل التباب۔وكانوا يقولون من شدہ لوگوں کا وطیرہ اختیار کیا۔اس سے پہلے وہ یہ کہا قبل إنّ رجلا لا يخرج من کرتے تھے کہ کوئی شخص ان اختلافات کی وجہ سے الإيمان باختلافات ليس فيها جن میں تعلیم قرآن کا انکار نہ ہو، ایمان کے دائرہ إنكار تعليم القرآن، وإنما سے خارج نہیں ہوتا اور تکفیر کا حکم صرف اُس پر الحكم بالتكفير لمن صرّح اطلاق پاتا ہے جو صراحت کے ساتھ کفر کا واضح بالكفر واختارہ دینا، وأنكر اظہار کرے اور کفر کو بطور دین اختیار کرے اور دين الله القدير وجحد خدائے قدیر کے دین کا انکار کرے اور کلمہ شہادت بالشهادتين كالأعداء اللئام، و کا کمینے دشمنوں کی طرح انکار کرے اور وہ دین ۳۲ خرج عن دين الإسلام وصار اسلام سے نکل گیا ہو اور مرتد ہو گیا ہو۔ان لوگوں من المرتدين۔وقالوا لو رأينا نے یہ کہا کہ اگر ہم اس شخص میں کوئی خیر دیکھتے یا في هذا الرجل خيرا أو رائحةً دین کی رمق پاتے تو ہم اسے کافر نہ ٹھہراتے اور نہ من الدين ما كفرنا وما كذبنا ہی تکذیب کرتے اور اس کی توہین کے درپے نہ وما تصدينا للتوهین کلا، بل ہوتے۔ہرگز نہیں بلکہ ان کے دل انکار پر اصرار قست قلوبهم من الإصرار علی کرنے اور ریا کاری کے دعووں اور متکبرانہ فتووں الإنكار، ودعاوى الرياء وفتاوی کے باعث سخت ہو چکے ہیں۔پس مہر لگانے والے الاستكبار ، فطبع عليها طابع وما نے ان کے دلوں پر مہر لگادی اور انہیں یہ توفیق نہ ملی وفّقوا أن يرجعوا مع الراجعین کہ وہ رجوع کرنے والوں کے ساتھ رجوع کرتے۔→