اتمام الحجّة — Page 71
اتمام الحجة 21 اردو تر جمه وإنك لا تنظر إليهم إلا اور تو تو وہ ہے جو ان کی طرف صرف اندھوں کی كعمين۔إنهم خرجوا من خلق طرح ہی دیکھتا ہے۔وہ ایسی تخلیق سے بالا ہیں جو كان مشابه خلق وجودِك، تیرے وجود کی تخلیق کے مشابہ ہے۔وہ اعلیٰ مقام وسعوا إلى مقام أعلى وتباعدوا کی جانب کوشاں رہے اور تیری حدود سے بالا ہو عن حدودك، ووصلوا مكانا گئے اور ایسے مقام پر جاپہنچے جہاں تیری نگاہوں کی لا تصل إليها أنظارك، ولا رسائی نہیں اور نہ ہی تیرے افکار کو اس کا ادراک تدركها أفكارك، ونزلوا ہے۔وہ ایسے (بلند ) مقام پر فائز ہیں جس کو صرف بمنزلة لا يعلمها إلا رب رب العالمین ہی جانتا ہے اس لئے تو ان کی باتوں العالمین۔فلا تدخل فی میں بے باک لوگوں کی طرح دخل مت دے اور نہ أقوالهم كمجترئین، ولا ہی ان کے ساتھ حد سے تجاوز کرنے والوں کی تتحرك بسوء الظنون وقلة طرح بدظنی اور بے ادبی سے پیش آ۔ورنہ تیرا الأدب معهم كالمعتدين رب تیرا دشمن ہو جائے گا اور تو نقصان اُٹھانے فيعاديك ربك وتلحق والوں میں شامل ہو جائے گا۔اس لئے اے میرے بالخاسرين۔فإيَّاك يا أخى أن بھائی ! انکار کے بھنور میں پڑنے اور حلقہء تقع في ورطة الإنكار، وتلحق اشرار میں شامل ہونے اور ہلاک ہونے والوں بالأشرار، وتهلك مع الهالكين کے ساتھ ہلاک ہونے سے بچ۔اور جان لے واعلم أن كتاب الله الرحمن کہ رحمن خدا کی کتاب (قرآن کریم ) طرح كسبعة أبحرٍ من أنواع نكات طرح کے نکات عرفان کے سات سمندروں کی العرفان، يشرب منها كل طير طرح ہے جس میں سے ہر پرندہ اپنی منقار کی بوسع منقاره، ويختار حقیرًا وسعت کے مطابق سیراب ہوتا ہے اور معمولی ولا يشرب إلا قدرا يسيرا سا لیتا ہے اور تھوڑی سی مقدار میں پیتا ہے۔