اتمام الحجّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 60 of 82

اتمام الحجّة — Page 60

اتمام الحجة ہی یہی ہے کہ حضرت عیسی در حقیقت فوت ہو گئے۔اردو ترجمه اے بھلے مانس مولو یو کیا تمہیں ایک دن موت نہیں آئے گی جو شوخی اور چالا کی کی راہ سے سارے جہان کو کافر بنا دیا۔خدا تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ جو تمہیں السلام علیکم کہے اس کو یہ مت کہو کہ لَسْتَ مُؤْمِناً یعنی اس کو کا فرمت سمجھو وہ تو مسلمان ہے۔لیکن تم نے ان کو کا فر ٹھہرایا جو تمام ایمانی عقائد میں تمہارے شریک ہیں۔اہل قبلہ ہیں اور شرک سے بیزار اور مدار نجات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی جانتے ہیں اور پیروی سے منہ پھیرنے والے کو لعنتی اور جہنمی اور ناری سمجھتے ہیں۔اے شریر مولو یو ذرہ مرنے کے بعد دیکھنا کہ اس جلد بازی کی شرارت کا تمہیں کیا پھل ملتا ہے۔کیا تم نے ہمارا سینہ چاک کیا اور دیکھ لیا کہ اندر کفر ہے ایمان نہیں اور سینہ سیاہ ہے روشن نہیں۔ذرہ صبر کرو اس دنیا کی عمر کچھ بہت لمبی نہیں۔تمہارے نزدیک صرف چند فتنہ انگیز مولوی جو اسلام کے لئے جائے عار ہیں مسلمان ہیں اور باقی سارا جہان کا فر۔افسوس کہ یہ لوگ کس قدر سخت دل ہو گئے۔کیسے پردے ان کے ۲۴ دلوں پر پڑ گئے۔یا الہی اس امت پر رحم کر اور ان مولویوں کے شر سے ان کو بچالے اور اگر یہ ہدایت کے لائق ہیں تو ان کی ہدایت کر ورنہ ان کو زمین پر سے اٹھا لے تا زیادہ شر نہ پھیلے اور یہ لوگ در حقیقت مولوی بھی تو نہیں ہیں تبھی تو ہم نے ان لوگوں کے سرگروہ اور امام الفتن اور استاد شیخ محمدحسین بطالوی کو اپنے رسالہ نور الحق میں مخاطب کر کے کہا ہے کہ اگر اس کو ھر بیت میں کوئی حصہ نصیب ہے تو اس رسالہ کی نظیر بنا کر پیش کرے اور پانچ ہزار روپیہ انعام پاوے مگر شیخ نے اس طرف منہ بھی نہیں کیا حالانکہ شیخ مذکور ان تمام لوگوں کے لئے بطور استاد کے ہے اور اُسی کی تحریکوں سے یہ مُردے جنبش کر رہے ہیں۔ہم بار بار کہتے ہیں اور زور سے کہتے ہیں کہ شیخ اور یہ تمام اُس کے ذریات محض جاہل اور نادان اور علوم عربیہ سے بے خبر ہیں۔ہم نے تفسیر سورۃ الفاتحہ انہیں لوگوں کے امتحان کی غرض سے لکھی اور رسالہ نورالحق اگر چہ عیسائیوں کی مولویت آزمانے کے لئے لکھا گیا مگر یہ چند مخالف