اتمام الحجّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 59 of 82

اتمام الحجّة — Page 59

اتمام الحجة ۵۹ اردو تر جمه مصنف کی رہنمائی سے نظر آ سکتے ہیں۔ورنہ قیامت تک پتہ لگنے سے نومیدی ہے۔اے ناظرین کیا آپ لوگوں نے کبھی اس سے پہلے بھی کوئی ایسی کتاب سنی ہے جس کے دلائل کتاب میں درج ہو کر پھر بھی مصنف کے پیٹ میں ہی رہیں۔افسوس کہ آج کل کے ہمارے مولویوں میں ایسی ہی بیہودہ مکاریاں پائی جاتی ہیں جن سے مخالفین کو ہنسی اور ٹھٹھے کا موقعہ ملتا ہے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ جو فاضل اور عالم اور واقعی اہل علم ہیں وہ تو ان کو نہ اندیشوں اور نادانوں سے کنارہ کر کے ہماری طرف آتے جاتے ہیں۔رہے نام کے مولوی جو اردو بھی اچھی (۲۳) طرح لکھ نہیں سکتے اور قرآن کریم اور احادیث سے بے خبر ہیں وہ صرف آبائی تقلید کی وجہ سے ہمارے ایسے مخالف ہو گئے ہیں کہ خدا جانے ہم نے ان کے کس باپ یا دادے کو قتل کر دیا ہے۔ان لوگوں کا رات دن کا وظیفہ گالیاں اور ٹھٹھا اور تکفیر ہے گویا کبھی مرنا نہیں۔کبھی پوچھے جانا نہیں کہ تم نے کیوں مسلمانوں کو کافر کہا۔خدا تعالیٰ سے لڑائی کر رہے ہیں ضد سے باز نہیں آتے۔مگر ضرور تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیشگوئی بھی پوری ہوتی کہ مہدی معہود یعنی وہی مسیح موعود جب ظہور کرے گا تو اس وقت کے مولوی اس پر فتوائے کفر لکھیں گے۔اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ وہ لوگ فتویٰ لکھنے والے تمام دنیا کے شریروں سے بدتر ہوں گے اور روئے زمین پر ایسا کوئی بھی فاسق نہیں ہوگا جیسا کہ وہ اور ہرگز قبول نہیں کریں گے مگر نفاق سے۔افسوس کہ ان سادہ لوحوں کو اتنی بھی سمجھ نہیں کہ جو شخص اللہ اور رسول کے قول کے مطابق کہتا ہے وہ کیونکر کافر ہو جائے گا۔کیا کوئی شخص اس بات کو قبول کر لے گا کہ وہ ہزار ہا کا بر اور اہل اللہ جو تیرہ سو برس تک یعنی ان دنوں تک حضرت عیسی کا فوت ہو جانا مانتے چلے آئے وہ سب کا فر ہی ہیں۔اور نعوذ باللہ امام مالک رضی اللہ عنہ بھی کافر ہیں جنہوں نے کروڑ ہا اپنے پیروؤں کو یہی تعلیم دی اور نعوذ باللہ امام بخاری بھی کا فر جنہوں نے حضرت عیسی کی موت کے بارے میں اپنی صحیح میں ایک خاص باب باندھا۔ابن قیم بھی کافر جنہوں نے ان کو حضرت موسیٰ کی طرح موتی میں داخل کیا۔اور ان بزرگوں کے مسلمان جاننے والے بھی سب کا فر۔اور معتزلہ تمام کا فر جن کا مذہب