اتمام الحجّة — Page 51
اتمام الحجة ۵۱ اردو تر جمه صلی اللہ علیہ وسلم نے توفی کے معنے مارنا کر دیئے ہیں تو پھر کیوں آپ لوگ قبول نہیں کرتے تو آخری جواب ان حضرات کا یہ ہے کہ حضرت مسیح کی زندگی پر اجماع ہو چکا ہے پھر ہم کیونکر قبول کرلیں مگر یہ عذر بھی بدتر از گناہ اور نہایت مکروہ چالا کی اور بے ادبی ہے۔کیونکہ جس اجماع میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم داخل نہیں ہیں بلکہ اس کے صریح مخالف ہیں وہ اجماع کے ساتھ اور ایک کیا حقیقت رکھتا ہے۔ماسوا اس کے اجماع کا دعویٰ بھی سراسر جھوٹ اور افترا ہے۔دیکھو کتاب مجمع بحارالانوار جلد اول صفحہ ۲۸۶ جو اس میں حَكَمًا کے لفظ کی شرح میں لکھا ہے ینزل (ای ينزل عيسى حكما اى حاكما بهذه الشريعة لا نبيًّا والاكثر ان عيسى لم يمت وقال مالك مات وهو ابن ثلث وثلثين سنة یعنی عیسی ایسی حالت میں نازل ہوگا جو اس شریعت کے مطابق حکم کرے گا نہ نبی ہو کر۔اور اکثر کا یہ قول ہے کہ عیسیٰ نہیں مرا۔اور امام مالک نے کہا ہے کہ عیسی مر گیا اور وہ تینتیس برس کا تھا جب فوت ہوا۔اب دیکھو کہ امام مالک کس شان اور مرتبہ کا امام اور خیر القرون کے زمانہ کا اور کروڑہا آدمی ان کے پیرو ہیں۔جب انہیں کا یہ مذہب ہوا تو گویا یہ کہنا چاہیئے کہ کروڑ ہا عالم فاضل اور متقی اور اہل ولایت جو بچے پیر و حضرت امام صاحب کے تھے ان کا یہی مذہب تھا کہ حضرت عیسیٰ فوت ہو گئے ہیں کیونکہ ممکن نہیں کہ سچا پیرو اپنے امام کی مخالفت کرے خاص کر ایسے امر میں جو نہ صرف امام کا قول بلکہ خدا کا قول رسول کا قول صحابہ کا قول تابعین کا نتبع تابعین کا قول ہے۔اب ذرہ شرم کرنا چاہیئے کہ جب ایسا عظیم الشان امام جو تمام ائمہ حدیث سے پہلے ظہور پذیر ہوا اور تمام احادیث نبویہ پر گویا ایک دائرہ کی طرح محیط تھا جب اسی کا یہ مذہب ہو تو کس قدر حیا کے برخلاف ہے کہ ایسے مسئلہ میں اجماع کا نام لیں افسوس کہ حضرات مولوی صاحبان عوام کو دھو کہ تو دیتے ہیں مگر بولنے کے وقت یہ خیال نہیں کرتے کہ دنیا تمام اندھی نہیں کتابوں کو دیکھنے والے اور خیانتوں کو ثابت کرنے والے بھی تو اسی قوم میں موجود ہیں۔یہ نام کے مولوی جب دیکھتے ہیں کہ نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ کے پیش کرنے سے عاجز آگئے اور گریز گاہ باقی نہیں رہا اور کوئی حجت ہاتھ میں نہیں تو نا چار ہو کر کہہ دیتے