اتمام الحجّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 50 of 82

اتمام الحجّة — Page 50

اتمام الحجة ☆ اردو تر جمه لئے یہ لفظ ایک عزت کا قرار پایا تو پھر جب مسیح پر یہی وارد ہوا تو کیوں اس کے خود تراشیدہ معنے لئے جاتے ہیں۔اگر یہ عام محاورہ کا فیصلہ منظور نہیں تو دوسرا طریق فیصلہ یہ ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ جو مسیح کے متعلق قرآنی آیات میں توفی کا لفظ موجود ہے اس کے معنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے کیا کئے ہیں۔چنانچہ ہم نے یہ تحقیقات بھی کی تو بعد دریافت ثابت ہوا که صحیح بخاری میں یعنی کتاب التفسیر میں آیت فلما توفیتنی کے معنے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مارنا ہی لکھا ہے اور پھر اس موقع پر آیت انى متوفيك كے معنے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مميتك درج ہیں یعنی اے عیسی میں تجھے مارنے والا ہوں۔اب ان حضرات مولویوں سے کوئی پوچھے کہ پہلا فیصلہ تو تم نے منظور نہ کیا مگر صحابہ کا فیصلہ اور خاص کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ قبول نہ کرنا اور پھر بھی کہتے رہنا کہ توفی کے اور معنے ہیں ایمانداری ہے یا بے ایمانی۔ایسے تعصب پر بھی ہزار حیف کہ ایک لفظ کے معنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے بھی سن کر قبول نہ کریں بلکہ کوئی اور معنے تراشیں اور اس فیصلہ کو منظور نہ رکھیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کر دیا ہے اور اپنی نزاع کو اللہ اور رسول کی طرف رد نہ کریں بلکہ ارسطو اور افلاطون کی منطق سے مدد لیں۔یہ طریق صلحاء کا نہیں ہے البتہ اشقیاء ہمیشہ ایسا ہی کرتے ہیں۔ہمارے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت سے اور کوئی بڑھ کر شہادت نہیں ہمارا تو اس بات کو سن کر بدن کانپ جاتا ہے کہ جب ایک شخص کے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ پیش کیا جائے تو وہ اس کو قبول نہیں کرتا اور دوسری طرف بہکتا پھرتا ہے۔پھر نہ معلوم ان حضرات کے کس قسم کے ایمان ہیں کہ نہ قرآن کریم کا فیصلہ ان کی نظر میں کچھ چیز ہے نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ نہ صحابہ کی تفسیر۔یہ کیسا زمانہ آ گیا کہ مولوی کہلا کر اللہ رسول کو چھوڑتے جاتے ہیں۔اور اگر بہت تنگ کیا جائے اور کہا جائے کہ جس حالت میں رسول اللہ حاشیہ:۔طبرانی اور مستدرک میں حضرت عائشہ سے یہ حدیث ہے کہ رسول اللہ صلعم نے اپنی وفات کی بیماری ۱۲۰ میں فرمایا کہ عیسی بن مریم ایک سو بیس برس تک جیتا رہا۔