اتمام الحجّة — Page 49
اتمام الحجة ۴۹ اردو تر جمه بطور دلائل کے استعمال کیا جائے اور اگر ایسے امر کو بطور دلیل کے پیش کریں کہ وہ خود نظری اور مشتبہ امر ہے جو تکلفات اور تاویلات اور تحریفات سے گھڑا گیا ہے تو اس کو دلیل نہ کہیں گے بلکہ وہ ایک الگ دعوئی ہے جو خود دلیل کا محتاج ہے۔افسوس کہ ہمارے سادہ لوح مولوی دلیل اور دعوی میں بھی فرق نہیں کر سکتے۔اور اگر کسی دعوی پر دلیل طلب کی جائے تو ایک اور دعویٰ پیش کر دیتے ہیں اور نہیں سمجھتے کہ وہ خود محتاج ثبوت ایسا ہی ہے جیسا کہ پہلا دعوی۔ہم نے اپنے مخالف الرائے مولوی صاحبوں سے حضرت مسیح علیہ السلام کی حیات ممات کے بارے میں صرف ایک ہی سوال کیا تھا۔اگر ایمانداری سے اس سوال میں غور کرتے تو ان کی ہدایت کے لئے ایک ہی سوال کافی تھا مگر کسی کو ہدایت پانے کی خواہش ہوتی تو غور بھی کرتا۔سوال یہ تھا کہ اللہ جل شانه نے قرآن کریم میں حضرت مسیح علیہ السلام کی نسبت دو جگہ تو فی کا لفظ استعمال کیا ہے اور یہ لفظ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں بھی قرآن کریم میں آیا ہے اور ایسا ہی حضرت یوسف علیہ السلام کی دعا میں بھی یہی لفظ اللہ جل شانہ نے ذکر فرمایا ہے اور کتنے اور مقامات میں بھی موجود ہے۔اور ان تمام مقامات پر نظر ڈالنے سے ایک منصف مزاج آدمی پورے اطمینان سے سمجھ سکتا (11) ہے کہ توفی کے معنے ہر جگہ قبض روح اور مارنے کے ہیں نہ اور کچھ۔کتب حدیث میں بھی یہی محاورہ بھرا ہوا ہے۔کتب حدیث میں توفی کے لفظ کو صد ہا جگہ پاؤ گے مگر کیا کوئی ثابت کر سکتا ہے کہ بجز مارنے کے کسی اور معنے پر بھی استعمال ہوا ہے ہر گز نہیں۔بلکہ اگر ایک اتمی آدمی عرب کو کہا جائے کہ تُوُفِّيَ زَيْدٌ تو وہ اس فقرہ سے یہی سمجھے گا کہ زید وفات پا گیا۔خیر عربوں کا عام محاورہ بھی جانے دو خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ملفوظات مبارکہ سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ جب کوئی صحابی یا آپ کے عزیزوں میں سے فوت ہوتا تو آپ توفی کے لفظ سے ہی اس کی وفات ظاہر کرتے تھے اور جب آنجناب صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی تو صحابہ نے بھی توفی کے لفظ سے ہی آپ کی وفات ظاہر کی۔اسی طرح حضرت ابوبکر کی وفات ،حضرت عمر کی وفات۔غرض تمام صحابہ کی وفات توفی کے لفظ سے ہی تقریر تحریر بیان ہوئی اور مسلمانوں کی وفات کے