اتمام الحجّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 48 of 82

اتمام الحجّة — Page 48

اتمام الحجة ۴۸ اردو تر جمه اعضا کو ایک دوسرے سے الگ کر دیا جائے اور نہایت دلیری کر کے بعض فقرات اپنی طرف سے ۱۵ ملا دیئے جائیں تو پھر ایسی خود ساختہ عبارت سے اگر کوئی مدعا ثابت کرنا چاہیں تو کیا یہ وہی یہودیانہ تحریف نہیں ہے جس کی وجہ سے قرآن کریم میں ایسے لوگ سؤر اور بندر کہلائے جنہوں نے اسی طرح توریت میں ملحدانہ کاروائیاں کی تھیں۔اگر ایسے ہی خائنانہ تصرفات اور تحریفات سے حضرت مسیح کی زندگی ثابت ہو سکتی ہے تو پھر ہمیں تو اقرار کرنا چاہیئے کہ حضرت مسیح کی زندگی ثابت ہوگئی۔مگر اس بات کا کیا علاج کہ خدا تعالیٰ نے ایسے محرفوں کا نام خنزیر اور بوز نہ رکھا ہے اور ان پر لعنت بھیجی ہے اور ان کی صحبت سے پر ہیز اور اجتناب کرنے کا حکم ہے۔یہ بات یادرکھنی چاہیئے کہ ہم الہی کلام کی کسی آیت میں تغییر اور تبدیل اور تقدیم اور تاخیر اور فقرات تراشی کے مجاز نہیں ہیں مگر صرف اس صورت میں کہ جب خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا ہو اور یہ ثابت ہو جائے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ بذات خود ایسی تغییر اور تبدیل کی ہے اور جب تک ایسا ثابت نہ ہو تو ہم قرآن کی ترصیع اور ترتیب کو زیروز بر نہیں کر سکتے اور نہ اس میں اپنی طرف سے بعض فقرات ملا سکتے ہیں۔اور اگر ایسا کریں تو عند اللہ مجرم اور قابل مواخذہ ہیں۔اب ناظرین خودمولوی صاحب موصوف کی کتاب کو دیکھ لیں کہ کیا وہ ایسی ہی کارروائیوں سے پُر ہے یا کہیں انہوں نے ایسا بھی کیا ہے کہ قرآن کریم کی کوئی آیت ایسے طور سے پیش کی ہے کہ اپنی طرف سے نہیں بلکہ ثابت کر کے دکھلا دیا ہے کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سے اس آیت کے معنے حضرت مسیح کی حیات ہی ثابت ہوتی ہے اور تکلفات اور تحریفات سے کام نہیں لیا۔ہمیں نہ مولوی رسل بابا صاحب سے کچھ ضد اور عناد ہے نہ کسی اور مولوی صاحب سے۔اگر وہ یہودیانہ روش پر نہ چلیں اور صحیح استدلال سے کام لیں تو پھر ثابت شدہ امر کو قبول نہ کرنا بے ایمانی ہے۔اگر کوئی تعصبات سے الگ ہو کر اس بات میں فکر کرے کہ حقیقتیں کیونکر ثابت ہوتی ہیں اور ان کے ثبوت کے لئے قاعدہ کیا ہے تو وہ سمجھ سکتا ہے کہ خدائے تعالیٰ نے ایسا قاعدہ صرف ایک ہی رکھا ہے اور وہ یہ ہے کہ صاف اور صریح اور بدیہی امور کو نظری امور کے ثابت کرنے کے لئے