اتمام الحجّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 36 of 82

اتمام الحجّة — Page 36

اتمام الحجة ۳۶ اردو تر جمه أفأنت أعلم منهم أو أنت من کیا تم اُن سب لوگوں سے زیادہ عالم ہو یا تم المجانين؟ إنهم كانوا أشدَّ دیوانے ہو وہ لوگ گفتگو میں تم سے کہیں بڑھ كيدا منك في الكلام، بل کر چالاک تھے۔بلکہ تم ان لوگوں کے مقابل پر أنت لهم كالسّلام، فكان آخر طفل مکتب ہو آخر کار ان کا انجام ربّ العالمین کا أمرهم خزی و خذلان وقهر قهر، رسوائی اور ذلت ہوا اور جب اللہ کسی قوم کی رب العالمين۔وإن الله إذا أراد رسوائی کا ارادہ فرماتا ہے۔تو (اس قوم کے لوگ) خزی قوم فيعادون أولياءه، اُس کے اولیاء سے عداوت رکھنے لگتے اور اُس کے ويؤذون أحباءه، ويلعنون پیاروں کو دُکھ دیتے اور اُس کے برگزیدہ بندوں کو أصفياءه، فیبارزهم الله لعن طعن کرتے ہیں اور اللہ جنگ کے لئے ان کے للحرب، ويصرف وجههم مد مقابل آجاتا ہے اور ایک ہی ضرب سے اُن بالضرب، ويجعلهم من کے منہ پھیر دیتا اور انہیں بے یارو مددگار کر دیتا المخذولين۔ألا تفكرون في ہے۔کیا تم ان (مخالفین) کے بارے میں غور نہیں أنفسهم أن الله يُنزل نُصرته کرتے ( کہ ان کا کیا انجام ہوا) یقیناً اللہ نے لنا بجميع أصنافها، ويأتى ہمارے لئے اپنی ہر قسم کی نصرت نازل فرمائی اور الأرض ينقصها من أطرافها، زمین کو اُس کے تمام اطراف سے سکیٹر رہا ہے اور ويحفظنا بأيدي العناية، اپنے دست عنایت سے ہماری حفاظت فرماتا ہے ويسترنا بملاحف الحماية، اور اپنی حمایت کے لحافوں میں ہمیں ایسے چھپائے فلا يضرنا کید المفسدين ؟ ہوئے ہے کہ مفسدوں کی کوئی تدبیر ہمیں نقصان يعلم من كان له ومن كان نہیں پہنچاسکتی۔وہ جانتا ہے کہ جو اُس کا ہے اور جو لغيره، وينظر كل ماش فی سیرہ، اُس کے غیر کا ہے۔وہ ہر چلنے والے کی چال پر نگاہ رکھتا ولا یهدی قوما مسرفین ہے اور حد سے بڑھنے والی قوم کو ہدایت نہیں دیتا