اتمام الحجّة — Page 31
اتمام الحجة ۳۱ Σ اردو تر جمه وأعجبنى لم تصديت لتأليف اور مجھے تعجب ہے کہ تم اس کتاب کی تالیف کے ۱۰ الكتاب، وأي أمر كتبت كالنادر در پے کیوں ہوئے اور تم نے اس میں کون سی نادر العجاب، بل جمعت فضلة أهل اور انوکھی بات لکھی ہے بلکہ تم نے اس میں صرف الفضول، واتبعت جهلات فضول لوگوں کا بچا کچھا جمع کر دیا ہے اور جاہلوں کی الجهول، وما قلت إلا قولا قيل من جاہلانہ باتوں کی پیروی کی ہے اور ان باتوں کے قبلك، ونسج بجهل أكبر من سوا تو نے کچھ نہیں کہا جو پہلے کی جاچکی ہیں اور تیری جهلك، وما نطقت بل سرقت جہالت سے بھی بڑھ کر جہالت کے تانے بانے بضاعة الجاهلين۔وما نرى فى بئے تھے اور تو نے خود کچھ نہیں کہا بلکہ جاہلوں کی كلامك إلا عبارتك التي نجد متاع چرائی ہے اور ہم تیرے کلام میں ایسی ہی ريحه كسهكِ الحيتان المتعفنة، عبارت دیکھتے ہیں جس کی بو متعفن مچھلیوں اور ونتن الجيفة المنتنة ، ونراه مملوا بدبودار مردار کی گندی بو کی طرح محسوس کرتے ہیں من تكلفات باردة ركيكة اور اُسے ہم رکیک اور ناقص تکلفات اور ہنسنے وضحكة الضاحكين۔وفعلت والوں کی ہنسی کے سامان سے بھرا ہوا پاتے ہیں۔كل ذلك لرغفان المساجد، اور یہ سب کچھ تم نے حریص کی طرح مسجدوں کی وابتغاء مرضاة الخلق كالواجد، روٹیوں اور لوگوں کی خوشنودی کے حصول کی خاطر لا لله رب العالمين۔يامن کیا ہے نہ کہ اللہ رب العالمین کی خاطر۔اے وہ ترك الصدق ومان، قد نبذت شخص جس نے سچ کو چھوڑا اور جھوٹ سے کام لیا، تو الفرقان، ولا تعلم إلا الهذيان نے فرقان ( حمید ) کو پس پشت ڈال دیا اور ہذیان وتمشي كالعمين، لا تعلم إلا کے سوا تو کچھ نہیں جانتا اور اندھوں کی طرح چلتا الاختراق في مسالك الزور، ہے۔جھوٹ کی راہوں پر چلنے اور شر کے مختلف والانصلات في سكك الشرور ، کوچوں میں سرپٹ دوڑنے کے سوا تو کچھ نہیں جانتا۔