اتمام الحجّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 30 of 82

اتمام الحجّة — Page 30

اتمام الحجة اردو تر جمه ى أنك لن تطالب البتہ تجھ سے ایک درہم کا بھی مطالبہ نہیں کیا ــدرهم إلا بـ إلا بعد جائے گا مگر ثالثوں کی گواہی کے بعد، اور شهادةحكم، وأما الحكم فلا بد جہاں تک فیصلہ کا تعلق ہے تو یہ ثالثی فیصلہ رقم من الحكمين بعد جمع جمع ہونے کے بعد دو ثالثوں کی طرف سے العين۔ووكلنا إليك ہوگا۔اور یہ معاملہ ہم تیرے سپر د کر تے ہیں هذا الخطب، ولك اور اس کے رطب و یابس کا تجھے مکمل اختیار كل ما تختار الیابس ہے اگر تم دو جھوٹے حکم بھی مقرر کرو گے تو أو الرطب، فإن جعلت ہمیں وہ بھی بسر و چشم قبول ہوں گے۔اور حَكَمين كاذبين، فنقبلهما ہم ان کے جھوٹ اور کذب کو نظر انداز بالرأس والعین، ولا کر دیں گے۔ہاں البتہ ان دونوں حکموں ننظر إلى الكذب والمين، سے خدائے ذوالجلال کی قسم دے کر استفسار بيد أننا نستفسرهما بیمین کریں گے۔اور ان دو ثالثوں پر لازم ہوگا الله ذي الجلال، وعليهما كہ وہ علی الا علان حلف اُٹھا ئیں کہ انہوں نے أن يحلفوا إظهارا لصدق سچی بات کی ہے پھر ہم انہیں ایک سال تک المقال، ثم نمهلهما إلى مہلت دیں گے اور ہم خدائے خبیر و علّام کے عام، ونمديد المسألة حضور دست دعا دراز کریں گے۔پھر اگر اس إلى خبير ،علام، فإن لم مدت میں قبولیت دعا کا کوئی واضح نشان ظاہر تتبين إلى تلك المدة أمارة نہ ہوا تو ہم اللہ تعالیٰ کو گواہ ٹھہراتے ہیں کہ الإستجابة، فنشهد الله انا نُقرّ اس صورت میں ) ہم بلاکسی شک وشبہ کے بصدقك من دون الاسترابة، تمہاری سچائی کا اقرار کر لیں گے اور تمہیں ونحسبك من الصادقين۔سچوں میں سے تصور کریں گے۔