اتمام الحجّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 26 of 82

اتمام الحجّة — Page 26

اتمام الحجة ۲۶ اردو تر جمه ولكن رتقت وما فتقت، وخدعت | لیکن تو نے اسے گرہ بند ہی رہنے دیا اور اسے نہ في كل ما نطقت وإنا نعلم کھولا اور اپنی ہر گفتگو میں دھوکا دیا اور یہ تو ہمیں أنك لست من المتموّلين۔معلوم ہی ہے کہ تو مالدار نہیں۔ومع ذلك لا نعرف أنك صادق علاوہ ازیں ہم یہ بھی نہیں جانتے کہ تو وعدے کا الوعد ومن المتقين، بل نری سچا اور متقی ہے بلکہ ہم تیری باتوں میں فاسقوں جیسی خيانتك في قولك كالفاسقين۔خیانت پاتے ہیں۔پھر اس بات کا کیا اعتبار کہ فما الثقة بأنك حين تغلب وترتعد جب تو مغلوب ہو جائے اور تجھ پر کپکپی طاری ہو ستفى بما تعد؟ وقد صار الغدر جائے تو تو اپنا وعدہ ضرور پورا کرے گا اور حال یہ كالتحجيل في حلية هذا الجيل، ہے کہ وعدہ خلافی اس نسل کے اوصاف میں نمایاں فإن وردت غدير الغدر، فمن أين وصف ہے۔اگر تو خود ہی وعدہ خلافی کے جو ہر میں۔نأخذ العين يا ضيق الصدر ؟ وما اتر جائے۔تو پھر اے تنگ دل بنتا ہم یہ رقم کہاں نريد أن تُرجع الأمر إلى القضاة سے لیں گے؟ ہم نہیں چاہتے کہ یہ معاملہ منصفوں ونحتاج إلى عون الولاة، ونكون تک جائے اور ہم حکمرانوں کی مدد کے محتاج ہوں عرضة للمخاطرات۔ونعلم أنك اور ہم خطرات کا ہدف بنیں۔ہمیں معلوم ہے کہ تو أنت من بنى غبراء، لا تملك نادار ہے تیرے پاس سیم و زر نہیں پھر بتا! تیرے بيضاء ولا صفراء، فمن أين يخرج فقر، تیری محتاجی اور کم مائیگی کے ہوتے ہوئے یہ العين مع خصاصتك وإقلالك نقد مال کہاں سے نکلے گا۔مزید برآں نئی آراء | وقلّة مالك؟ ومع ذلك للعزائم عزائم کے آڑے آجاتی ہیں اور وعدوں کے راستہ بدوات، وللعدات ،معقبات، وبيننا میں موانع ہوتے ہیں۔ہمارے اور وعدوں کی وبين النجز عقبات ، ولا نأمن | تحمیل کے درمیان روکیں ہیں۔اور اے جھوٹوں وعدكم يا حزب المبطلين کے گروہ ! ہم تمہارے وعدوں پر اعتبار نہیں کرتے۔