اتمام الحجّة — Page 25
اتمام الحجة ۲۵ اردو تر جمه ولم أزل أرقب رجلا يدعى اليقين | اور مجھے ہمیشہ ایسے شخص کا انتظار ہی رہا جو اس في هذا الميدان، وأتشوف إلى ميدان ميں يقين کا دعویٰ کرتا اور منتظر رہا کہ دشمنوں خبره في أهل العدوان، فما قام میں سے کسی ایسے شخص کے متعلق مجھے کوئی اطلاع أحد إلى هذا الزمان، بل فروا منی مل جائے۔لیکن اس وقت تک کوئی بھی مقابل پر كالجبان، فأودعتهم كاليائسین نہ آیا۔بلکہ وہ بُزدلوں کی طرح مجھ سے بھاگ وانطلقت كالمتفرّدين، إلى أن نکلے۔پس میں نے ناامیدوں کی طرح انہیں جاء نی بعد تراخى الأمد، خیر باد کہہ دیا اور میں تن تنہا ہی چل پڑا تا آنکہ تلك رسالتك يا ضعیف کچھ مدت کے بعد اے کوتاہ نظر اور بیمار چشم البـصـر شـديـد الرمد، ونظرت تیرا یہ رسالہ مجھے ملا اور میں نے اس پر نگاہ إليه نظرة وأمعنت فيه طرفة، ڈالی اور لمحہ بھر غور کیا تو میں نے جانا کہ یہ تو فعرفت أنه من سقط المتاع، روی مال ہے۔اور لا زم ہے کہ اس پر پردہ ہی ومما يستوجب أن يُخفَى ولا پڑا رہے۔اور اسے بطور متاع پیش نہ کیا يُعرض كالبعاع۔ولو غشِيك جائے اور اگر تجھے نور عرفان نصیب ہوتا اور تو نور العرفان، وأمعنت كرجل له نے ایک بینا شخص کی طرح غور کیا ہوتا تو تو خود عينان، لسترت عوارك، وما اپنی عیب پوشی کر لیتا اور اپنے ہمسایہ کو اپنی دعوت إليه جارك، ولكن الله کمزوری کی طرف نہ بلاتا۔لیکن منشاء الہی یہی أراد أن يُخزيك، ويُرى الخلق تھا کہ وہ تجھے رسوا کرے اور مخلوق کو تیری ذلت خزيك، فبارزت وأقبلت، دکھائے اس لئے تو مقابلہ کرنے کے لئے وفعلت ما فعلت وزوّرت سامنے آیا اور جو کرنا تھا وہ تو نے کیا اور مکروفریب وسولت، وكتبت في كتابك سے کام لیا اور عوام کالانعام کو خوش کرنے کے الإنعام، لترضى به الأنعام لئے اپنی کتاب میں انعام کا اشتہار دے دیا۔