اتمام الحجّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 14 of 82

اتمام الحجّة — Page 14

اتمام الحجة ۱۴ اردو ترجمہ هذا ما ذكرناك من النبى یه نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کا وہ یہ والصحابة لنزيل عنك (عقیدہ) ہے جو ہم نے تجھے یاد دلایا ہے تا کہ ہم تجھ غشاوة الاسترابة، وأما حقيقة سے شکوک کا پردہ ہٹا دیں۔ صحابہ کے بعد آنے والے إجماع الذين جاء وا بعدهم لوگوں کے اجماع کی حقیقت کا جہاں تک تعلق ہے تو فنذكرك شيئا من كلِمِهِم، اُن کی بعض باتوں کا ذکر ہم آئندہ تم سے کریں گے۔ وإن كنت من قبل من الغافلين۔ اگر چہ تم اس سے پہلے محض غافل تھے۔ فاعلم أن الإمام البخاري جان لو کہ امام بخاری جو اللہ کے فضل سے الذي كان رئيس المحدثين رئيس المحد ثین تھے وہ وفات مسیح کا سب سے پہلے من فضل البارى، كان أول اقرار کرنے والے تھے۔ جیسا کہ انہوں نے اپنی المقرين بوفاة المسيح، كما صحیح میں اس کی جانب اشارہ فرمایا ہے ۔ انہوں أشار إليه في الصحيح، فإنه نے ان دو آیتوں (اِنِّي مُتَوَفِّيكَ فَلَمَّا جمع الآيتين لهذا المراد تَوَفَّيْتَنِی (۳) کو اس غرض سے جمع کیا تھا تا کہ وہ ليتظاهرا ويحصل القوة دونوں ایک دوسرے کو تقویت دیں اور اجتہاد للاجتهاد۔ وإن كنت تزعم أنه مضبوط ہو اور اگر تمہارا یہ خیال ہے کہ اُنہوں نے ان ماجمع الآيتين المتباعدتين دو متباعد آیتوں کو اس نیت سے جمع نہیں کیا تھا اور ان کی غرض اس عقیدہ ( وفات مسیح ) کو ثابت کرنے کی لهذه النية، وما كان له غرض لإثبات هذه العقيدة، فبين لم نہیں تھی۔ تو پھر اگر تم چشم بصیرت رکھتے ہو تو بتاؤ کہ اُنہوں نے ان دو آیتوں کو کیوں جمع کیا ؟ اور جمع الآيتين إن كنت من ذوى العينين؟ وإن لم تبين، ولن اگر تم اس کی وضاحت نہ کر سکو اور تم ہرگز نہیں کر سکو گے تو پھر اللہ سے ڈرو اور فاسقوں کی راہوں تبين ، فاتق الله ولا تُصرّ على طرق الفاسقين۔ پر چلنے پر اصرار نہ کرو۔ ال عمران : ۵۶ المائدة : ١١٨