اتمام الحجّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 12 of 82

اتمام الحجّة — Page 12

اتمام الحجة اله اردو ترجمہ ۔ واذكروا الموت يا دود الممات اے موت کے کیڑو! موت کو یا درکھو۔ (کیا تم سمجھتے أتُتركون في الدنيا فرحین ؟ ہو کہ تمہیں دنیا میں یونہی شاداں و فرحاں چھوڑ دیا فاذكروا يوما يتوفاكم الله ثم جائے گا۔ اُس دن کو یاد کرو جب اللہ تمہیں وفات دے ترجعون إليه فرادی فرادی، گا پھر تم اس کی طرف ایک ایک کر کے لوٹائے جاؤ گے۔ ولا ينصركم من خالف الحق اور کوئی بھی حق کا مخالف اور دشمن تمہاری مدد نہ کر سکے وعادي، وتُسألون كالمجرمین گا اور تم سے مجرموں کی طرح باز پرس کی جائے گی۔ وأما قول بعض الناس من الحمقى رہا بعض احمق لوگوں کا یہ قول کہ عیسی کے أن الإجماع قد انعقد على رفع روحانی زندگی کے ساتھ نہیں بلکہ جسمانی زندگی عيسى إلى السماوات العلى بحياته کے ساتھ بلند آسمانوں کی طرف رفع پر اجماع الجسماني لا بحياته الروحانی ہو چکا ہے ، پس تو جان لے کہ یہ قول محض ایک فاعلم أن هذا القول فاسد و متاع لغو بات اور ایک گھٹیا سودا ہے جسے صرف جاہل كاسد، لا يشتريه إلا من كان من ہی خرید سکتا ہے۔ اجماع سے مراد اجماع الجاهلين۔ فإنّ المراد من الإجماع صحابہ ہے ۔ اور وہ اس عقیدہ میں ثابت نہیں إجماع الصحابة، وهو ليس بثابت ہے ۔ حضرت ابن عباس نے مُتَوَفِّيكَ کے في هذه العقيدة ، وقد قال ابن معنى مُمِيتُكَ کے کئے ہیں۔ پس موت عباس متوفيك مميتك، فالموت تو ثابت ہے خواہ تیرا بھوت اس کو قبول نہ ثابت وإن لم يقبل عفريتك کرے ۔اے وہ شخص جس نے مجھے تکلیف دی وقد سمعت يا من آذيتني أن آية ہے ! تم نے یہ سنا ہے کہ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی کی فَلَمَّا تَوَفَّيْتَني تدل بدلالة قطعية آيت دلالت قطعیہ اور واضح عبارت سے اس و عبارة واضحة أن الإماتة التي امر کی طرف رہنمائی کرتی ہے کہ جو وفات ثبتت من تفسیر ابن عباس حضرت ابن عباس کی تفسیر سے ثابت ہوتی ہے