اسلامی لٹریچر میں خوفناک تحریف — Page 6
6 معتقدات کے مطابق نہ پا کر ایک اور ترجمہ کیا۔جس کا دوسرا ایڈیشن ملک سراج دین اینڈ سنز تاجران کتب کشمیری بازار لاہور نے 1956ء میں سپر داشاعت کیا۔علامہ شوق نے 1925ء کے مستند اور بامحاوہ اردوترجمہ کے بعض مقامات پر خط تنسیخ کھینچ کر ان کو اپنے ترجمہ سے یکسر خارج کر دیا۔حالانکہ تذکرۃ الاولیاء فاری مطبوعہ (306ھ 1889ء) مطبع محمدی لاہور میں یہ سب حوالے موجود ہیں۔صرف چند مثالوں پر اکتفا کی جاتی ہے۔حذف شدہ فرمودات کی چند مثالیں پیش خدمت ہیں۔ا۔منقول ہے کہ کسی آدمی سے آپ (حضرت ابو یزید بسطامی ناقل ) پوچھا۔کہاں جاتے ہو؟ کہا حج کو۔پوچھا۔کچھ پاس ہے؟ کہا دوسو درہم۔فرمایا۔یہ مجھے دے دو، کیونکہ عیال دار ہوں اور سات بار میرے گرد پھر کر واپس چلا جا۔تیرا حج یہی ہے۔اس نے ویسا ہی کیا اور پھر واپس چلا گیا۔( ترجمہ تذکرۃ الاولیاء صفحہ 128 مطبوعہ منزل نقشبندیہ۔لاہور ) ۲۔فرمایا ( حضرت محمد علی حکیم الترندی ناقل ) کہ مجذوب کی کئی ایک منازل ہیں۔چنانچہ بعض کو نبوت کا تیسرا حصہ ملتا ہے اور وہ خاتم الاولیاء اور تمام اولیاء کا سردار ہوتا ہے جیسا کہ مصطفی یہ خاتم الانبیاء اور تمام انبیاء کے سردار تھے اور نبوت آنحضرت ﷺ پر ختم تھی۔۳۔جس طرح عورتوں کو ( قول حضرت ابوبکر واسطی" ناقل ) حیض آتا ہے اسی طرح مریدوں کے لیے راہ ہدایت میں حیض ہے۔مرید کی راہ کا حیض گفتگو سے آتا ہے۔بعض ایسے ہوتے ہیں جو نا پاک حالت میں رہتے ہیں۔کبھی پاک ہی نہیں (ايضاً صفحه 422)