اسلامی لٹریچر میں خوفناک تحریف — Page 49
49 ہے۔اور سورج گرہن کے دنوں میں سے درمیانہ دن یعنی ماہ رمضان کی اٹھائیسویں تاریخ ہے۔اس کے بعد حضرت خواجہ صاحب نے فرمایا کہ بے شک حدیث شریف کے معنے اسی طرح سے ہیں جس طرح حضرت مرزا صاحب نے بیان فرمائے کیونکہ چاند گرہن ہمیشہ مہینہ کی ۱۳ یا ۱۴ یا ۱۵ تاریخ کو ہی واقع ہوتا ہے۔اور سورج گرہن ہمیشہ مہینہ کی ۲۷ یا ۲۸ ی ۲۹ تاریخ کو ہی وقوع پذیر ہوتا ہے۔پس چاند گرہن جو بتاریخ ۶ ماہ اپریل ۱۸۹۴ کو واقع ہوا ہے وہ ماہ رمضان المبارک کی تیرھویں تاریخ ہے جو کہ چاند گرہن کی راتوں میں سے پہلی رات ہے اور سورج گرہن کے دنوں میں سے درمیانے دن سورج گرہن ہوا ہے۔(اور وہ ماہ رمضان کی ۲۸ تاریخ ہے )۔بعد ازاں حضرت خواجہ صاحب نے تسبیح (مالا) مبارک چار پائی پر رکھ دی اور نماز عشاء با جماعت ادا فرمائی اور یہ عاجز (رکن الدین ) بھی نماز با جماعت میں شامل ہوا۔(اشارات فریدی جلد سوم صفحه ۶۹ تا ۷۲ ) مہدی برحق کی بے ادبی پر انتباہ اور اس کے ظہور کی عارفانہ منادی (ترجمه) مقبوس نمبر ۵۶- بعد از نماز ظهر بروز منگل بتاریخ ۲۷ ماه رمضان المبارک ۱۳۱۴ھ ) حضرت خواجہ صاحب کی پابوسی اور زیارت کا شرف حاصل ہوا جس سے بہتر کوئی عبادت اور سعادت نہیں۔اسی اثناء میں حافظ گوں سکنہ حدود گڑھی بختیار خان نے حضرت مرزا غلام احمد قادیانی کے متعلق نامناسب اور ناروا باتیں کہنا شروع