اسلامی لٹریچر میں خوفناک تحریف — Page 67
67 حضرت شاہ رفیع الدین کا اصلی اور قدیم ترجمہ حاجی ملک دین محمد اینڈ سنز تاجران کتب و پبلشرز بازار بل روڈ لاہور نے ۱۳۵۲ھ ۱۹۳۳ ء میں شائع کیا جس میں مُہر تمام نبیوں پر کے الفاظ بدل دیئے گئے ہیں اور ان کی بجائے یہ لکھ دیا کہ ختم کرنے والا ہے تمام نبیوں کا “ ظاہر ہے کہ مہر تصدیق اردو کا ایک قدیم اور مستند محاورہ ہے۔عدالتی دستاویزات کی مہر عدالت سے بند ہوا نہیں بلکہ جاری ہوا کے الفاظ ثبت کئے جاتے ہیں مشہور دیو بندی عالم جناب شبیر احمد عثمانی صاحب نے اپنی کتاب ”الشھاب میں اپنا مؤقف یہ تحریر فرمایا ہے کہ احمدی مرتد ہیں اور ارتداد کی شرعی سزا قتل ہے۔بایں ہمہ انہوں نے اپنے ترجمہ قرآن میں ” خاتم کا ترجمہ مہر ہی کے کئے ہیں اور حاشیہ میں اس کی تفسیر میں فرمایا ہے۔دو جس طرح روشنی کے تمام مراتب عالم اسباب میں آفتاب پر ختم ہو جاتے ہیں اسی طرح نبوت و رسالت کے تمام مراتب و کمالات کا سلسلہ بھی روح محمد صلعم پر ختم ہوتا ہے۔بدیں لحاظ کہہ سکتے ہیں کہ آپ رتبی اور زمانہ ہر حیثیت سے خاتم النبین ہیں اور جن کو نبوت ملی ہے آپ ہی کی مہر لگ کر ملی ہے۔“ ( ترجمه صفحه ۵۵۰ ناشر نور محمد کارخانه تجارت کتب آرام باغ کراچی) خلاصہ کلام یہ کہ بزرگان سلف کے قدیم لڑیچر میں ترمیم ، حذف اور اضافہ کی کوششیں ، مواعظ و خطبات سیرت و سوانح ، تصوف عقائد علم التعبیر اور کلام وحدیث کی کتابوں ہی میں نہیں کی گئی بلکہ قرآن کریم کے ترجمہ اور تفسیر کو بھی ان کا نشانہ بنایا جا چکا ہے۔