اسلامی لٹریچر میں خوفناک تحریف — Page 59
59 ہے۔صحیح مسلم کی شہرت اور مقبولیت کا اندازہ اس امر سے ہوسکتا ہے کہ اس کی بہت سے شروح آج تک لکھی گئی ہیں۔مسلم کے شارحین میں حضرت امام جلال الدین سیوطی اور حضرت قاضی ایاز جیسے اکابر امت اور ائمہ فن کے علاوہ شافعی مالکی۔حنفی غرض کہ ہر مکتب فکر کے بزرگ شامل ہیں۔حضرت امام مسلم نے کتاب الحج باب فضل الصلوة بمسجدى مكة و مدينة میں مندرجہ ذیل حدیث بروایت حضرت ابو ہریرہ درج فرمائی ہے۔قال رسول الله صلى الله عليه وسلم فَإِنِّي اخِرُ الأنبياءِ وَ إِنَّ مَسجِدِى أَخِرُ المَسَاجِدِ یعنی میں آخری نبی ہوں اور میری مسجد آخری مسجد ہے۔یہ حدیث جماعت احمدیہ کے نظریہ ختم نبوت کی زبر دست موئید ہے جس سے آنحضرت ﷺ کے آخری نبی ہونے کی تفسیر خود حضرت خاتم الانبیاء محمد مصطفی جاتی ہے نے اپنی زبان مبارک سے فرمائی ہے۔یہ حدیث بھی صحیح مسلم کتاب الحج سے نکال دی گئی ہے۔یہ حذف شدہ نسخہ شیخ غلام علی اینڈ سنز پبلشرز لاہور نے نومبر ۱۹۵۶ء میں شائع کیا ہے اور اس کا ترجمہ سید رئیس احمد صاحب جعفری نے کیا ہے۔صحیح مسلم میں دوسرا تغیر و تبدل یہ کیا گیا ہے کہ کتاب الایمان میں حضرت ابو ہریرہ کی مندرجہ ذیل دو حدیثیں جو تمام پہلے مصری اور ہندوستانی نسخوں میں موجود تھیں صرف اس لیے حذف کر دی گئیں کہ ان سے جماعت احمدیہ کا یہ مسلک بالکل صحیح ثابت ہوتا تھا کہ آنیوالا مسیح ابن مریم امت محمدیہ کا ہی ایک فرد ہوگا۔وہ دونوں حدیثیں یہ ہیں :۔