اسلامی لٹریچر میں خوفناک تحریف — Page 58
58 الظَّاهِرُ أَنَّ هَذَا تَفسِير" لِلصَّحَابِي أَو مَن بَعدَهُ وفِي شَرح مُسلِمٍ قَالَ ابْنُ الْاعَرَبِّي العَاقِبُ الَّذِي يَحْلُفُ فِي الخَيرِ مَن كَانَ قَبلَه “ (مرقاه شرح مشکوۃ جلد ۵ ( صفحه ۲۷۶ مطبوعہ مصر ۱۳۰۹ھ ) یعنی صاف ظاہر ہے کہ الـعـاقــب الـذي ليس بعده ، کسی صحابی یا بعد میں آنے والے شخص کی تشریح ہے۔مسلم کی شرح میں ہے کہ ابن اعرابی نے کہا ہے کہ عاقب وہ ہوتا ہے جو کسی اچھی بات میں اپنے سے پہلے کا قائمقام ہو۔نبی قارئین حیران ہوں گے کہ اس واضح حقیقت کے باوجود قرآن محل مقابل مولوی مسافر خانہ کراچی سے ۱۳۸۰ ھ ۱۹۶۱ ء میں ایک شمائل ترمذی شائع کی گئی جس میں سے ” هذا قول الزهری “ کے بین السطور الفاظ بالکل حذف کر دیئے گئے ہیں تا کہ یہ مغالطہ بآسانی دیا جاسکے کہ عاقب کی یہ تشریح آنحضرت ﷺ کی زبان مبارک سے نکلی ہوئی ہے اور فی الحقیقت یہ حدیث نبوی ہے یہی نہیں اس مغالطہ انگریزی کو انتہاء تک پہنچانے کے لیے حاشیہ میں بھی لکھ دیا گیا ہے کہ ولی بعدی نبی اور میرے بعد کوئی نبی نہیں۔صحیح مسلم شریف حضرت امام مسلم بن حجاج (ولادت ۲۲۵۲۰۶ - ۸۲۱ء وفات ۲۶۱ھ ۸۷۵ ء ) علم حدیث کے مسلمہ امام کبیر ہیں۔جن کی شہرہ آفاق صحیح مسلم کو یہ شرف حاصل ہے کہ ہمیشہ اصح الکتاب بعد کتاب اللہ بخاری شریف کے ساتھ ساتھ اس کا نام بھی لیا جاتا له ابن اعرابی وفات ۶۸۴۶۵۲۳۱