اسلامی لٹریچر میں خوفناک تحریف — Page 57
57 ہمیں کچھ کیں نہیں بھا ئیو نصیحت ہے غریبا نہ کوئی جو پاک دل ہو وے دل و جان اس پہ قربان ہے شمائل ترمذی حضرت امام ابوعیسی ترندی (المتوفی ۸۹۲۵۲۷۹ء ) کا شمار محد ثین عظام میں ہوتا ہے۔حضرت امام آنحضرت ﷺ کے حلیہ مبارک ، لباس عادات و شمائل اور اخلاق و معمولات کے متعلق جتنی روایات پہنچیں ان کو ایک کتاب ”شمائل ترمذی میں جمع کر دیا۔علماء اور محدثین نے اس جامع کتاب کی بہت سی شرحیں اور حواشی لکھے ہیں۔شمائل ترمذی میں آنحضرت ہی اللہ کے اسمائے مبارک کے بارے میں ایک حدیث درج ہے کہ انا العاقب “ کہ میں عاقب ہوں۔اس حدیث کے ساتھ بطور تشریح یہ عبارت ہے العَاقِبُ الَّذِي لَيسَ بَعدَهِ نبی " اسی ترجمہ سے حسین مجتبائی دہلی اور امین کمپنی بازار دہلی میں چھپنے والے نسخوں کے بین السطور میں یہ تصریح موجود ہے کہ هَذَا قَولُ الزُّهْرِى ( یہ امام زہریؒ کا قول ہے ) پنجاب یونیورسٹی لائبریری لاہور میں شمائل ترمذی کا ایک قلمی نسخہ ہے جس پر ۸ ۱ ذی الحجہ ۱۳۰۲ ہجری کی تاریخ درج ہے اس مخطوطہ میں بھی اس مقام پر بین السطور لکھا ہے ” هذا قول الزهرى شیخ ابن حجر ، یعنی شیخ ابن حجر کے نزدیک یہ امام زہری کا قول ہے۔" علاوہ ازیں مشکوۃ کے شارح حضرت ملاعلی القاری المتوفی ۱۰۱۴ ۱۶۰۷۵ء نے بھی فرمایا ہے کہ :۔