اسلامی لٹریچر میں خوفناک تحریف — Page 56
56 بہا جواہرات سے لبریز ہے۔اس کتاب میں ایسی جامعیت ہے کہ جہاں اس سے عامۃ الناس مستفیض ہو سکتے ہیں طالبان راہ حق کے تمام طبقات یعنی مبتدی متوسط اور منتہی سب کے لیے ان کے حسب استعداد اسباق و نکات موجود ہیں“۔مقابیس المجالس جس کو آئندہ ہم سہولت کی خاطر اشارات فریدی سے موسوم کریں گے کی پہلی تین جلدوں کی طباعت آپ کے خلیفہ جانشین قطب الموحدین حضرت خواجہ محمد بخش قدس سرہ کے زیر سر پرستی نواب محمد عبد العلیم خان والی ریاست ٹونک نے جو حضرت اقدس کے راسخ العقیدہ مرید تھے سال ۱۳۲۱ھ یعنی آپ کے وصال کے دو سال بعد مطبع مفید عام آگرہ میں کرائی۔“ مقابیس المجالس صفحہ ۸۸-۸۹) قرآن مجید نے یہودی اخبار کو تحریف کا مجرم قرار دے کر جس درجہ زجر و تو ریخ فرمائی ہے اس کی مزید تشریح کی ضرورت نہیں۔حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی فرماتے ہیں: اگر تم اس امت میں یہود کا نمونہ دیکھنا چا ہو تو ان علماء سوء کو دیکھ لو“ ( ترجمہ: الفوز الکبیر صفحہ ۷ ا ناشر ادارہ اسلامیات لاہور فروری ۱۹۸۲ء) اہل حدیث عالم مولوی ثناء اللہ صاحب نے اخبار اہلحدیث ۱۹ اپریل ۱۹۰۷ میں یہ برملا اعتراف کیا کہ قرآن میں یہودیوں کی مذمت کی گئی ہے کہ کچھ حصہ کتاب کا مانتے ہیں اور کچھ نہیں مانتے۔افسوس کہ آجکل ہم اہلحد بیٹوں میں بالخصوص یہ عیب پایا جاتا ہے۔(بحوالہ زجاجہ صفحہ ۱۹۷ مؤلفہ سید طفیل محمد شاہ صاحب مطبع آرٹ پریس۔۱۵۔انار کلی لاہور )