اسلامی لٹریچر میں خوفناک تحریف — Page 53
53 کے چاروں طرف شائع کر دیا ہے اور حضور کے اس خط کو مرزا صاحب نے اپنی سچائی کی مضبوط سند قرار دی ہے اور تمام روئے زمین کے علماء وصلحاء پر نمایاں طور پر حجت قرار دی ہے اور وہ (حضرت اقدس مرزا صاحب ) کہتے ہیں کہ دیکھئے ! اس طرح شیخ اکبر واعظم جو جہاں میں مقتداء ہیں میرے موقف کی صحت کے معترف ہیں۔اور مجھے کو اللہ تعالیٰ کے صالح بندوں میں سے جانتے ہیں۔پس حضور کو چاہیے کہ اس سے سروکار نہ رکھیں اور دنیا کے علماء کی حمایت فرما ئیں اور وہ اس طرح کہ حضور بھی ان فتووں پر جو ہم نے ان (مرزا صاحب) کے انکار اور رڈ میں لکھے ہیں حضور بھی ان کے کفر کا فتویٰ خود لکھ دیں۔مگر حضرت خواجہ صاحب ابقاه الله تعالى ببقائه نے اس فتویٰ پر ہرگز اپنے دستخط نہ کئے۔اس وقت حضرت خواجہ صاحب نے فرمایا کہ مرزا غلام احمد قادیانی حق پر ہیں اور اپنے معاملہ میں راستباز و صادق ہیں اور آٹھوں پہر اللہ تعالیٰ حق سبحانہ کی عبادت میں مشغول رہتے ہیں اور اسلام کی ترقی اور دینی امور کی سر بلندی کے لیے دل و جان سے کوشاں ہیں۔میں ان میں کوئی مذموم اور قبیح چیز نہیں دیکھتا۔اگر انہوں نے مہدی اور عیسی ہونے کا دعویٰ کیا ہے تو یہ بھی ایک ایسی بات ہے جو جائز ہے۔(اشارات فریدی جلد ۳ صفحه ۷ ۱۷ تا ۱۷۹) عبد اللہ آتھم کی پیشگوئی کے مطابق ہلاکت کا اعتراف حق ( ترجمہ ) مقبوس نمبرے۔بوقت مغرب۔سوموار کی رات۔۱۸ ماه جمادی الاول ۱۳۱۴ھ بعد ازاں ایک شخص نے باوا گرونا تک رحمتہ اللہ علیہ کا ذکر کیا۔اس کے بعد کچھ ذکر حضرت مرزا غلام احمد قادیائی اور پادری عبد اللہ آتھم (جو کہ حضرت اقدس کا سخت مخالف تھا) کا چل پڑا۔اور خواجہ صاحب ابقاه الله تعالى