اسلامی لٹریچر میں خوفناک تحریف

by Other Authors

Page 48 of 81

اسلامی لٹریچر میں خوفناک تحریف — Page 48

48 میں چاند کو اس کی پہلی رات گرہن لگے گا اور سورج کو اس کی درمیانی رات گرہن لگے گا۔چونکہ ماہ اپریل ۱۸۹۴ء کو چھٹی تاریخ کو خسوف قمر اور کسوف شمس واقع ہو گیا ہے۔پس حضرت مرزا صاحب نے اپنی طرف سے اتمام حجت کے لیے تمام دنیا کے اطراف واکناف میں ان معنوں کا اشتہار شائع کیا ہے کہ یہ پیشگوئی جو آنحضرت ما نے مہدی موعود کے ظاہر ہونے کے متعلق بیان فرمائی تھی اب پوری ہوگئی ہے۔ہر ایک پر واجب ہے کہ میرے مہدی ہونے کو تسلیم کریں اور اقرار کریں۔مگر اس زمانے کے مولویوں نے یہ طفلانہ سوال کیا ہے کہ حدیث شریف سے یہ معنی ظاہر ہوتے ہیں کہ رمضان شریف کی پہلی رات کو چاند گرہن ہو گا اور اپنی ماہ رمضان میں سورج کو بھی گرہن ہوگا۔اور یہ چاند گرہن، رمضان کی تیرہویں تاریخ کو واقع ہوا ہے۔اور سورج گرہن رمضان کی اٹھائیسویں تاریخ کو واقع ہوا ہے اور یہ بات حدیث شریف کے فرمان کے خلاف ہے۔وہ کسوف و خسوف کوئی اور ہو گا جو کہ مہدی برحق کے زمانہ میں واقع ہوگا۔اس کے بعد حضرت خواجہ صاحب ابقاه الله تعالى ببقائه نے فرمایا سبحان اللہ ! سنئے ! حضرت مرزا صاحب نے مذکورہ حدیث کے کیا معنی کئے ہیں اور منکر مولویوں کو کیا جواب دیا ہے؟ حضرت مرزا صاحب نے فرمایا کہ حدیث شریف سکے معنے یہ ہیں کہ ہمارے مہدی کی تائید و تصدیق کیلیئے دو نشان مقرر ہیں اس وقت سے کہ جب سے آسمان و زمین پیدا ہوئے۔یہ دونوں نشان کسی مدعی کے وقت میں ظاہر نہیں ہوئے اور وہ دونشان یہ ہیں کہ مہدی موعود کے دعوئی کے وقت چاند گرہن پہلی رات کو ہوگا اور وہ چاند گرہن کی تین راتوں میں سے پہلی رات یعنی تیرھویں رات