اسلامی لٹریچر میں خوفناک تحریف — Page 31
31 اسے پروفیسر براؤن نے بھی کمال سادگی سے شاہ نعمت اللہ کرمانی کے حالات میں درج کر دیا۔حالانکہ انہیں قطعی اور یقینی طور پر علم تھا کہ شاہ نعمت اللہ کرمانی کے دیوان مطبوعہ طہران 1860 میں اس قصیدے کا نام و نشان تک نہیں ہے۔جیسا کہ انہوں نے اپنی اسی کتاب کی تیسری جلد کے صفحہ 468 میں واضح لفظوں میں اعتراف کیا ہے "THE POEM IS NOT TO BE FOUND AT ALL IN THE LITHO GRAPHED EDITION" یعنی اس نظم کا لیتھو ایڈیشن میں قطعاً کوئی وجود ہی نہیں ہے!۔اب آگے سینے۔مسٹر براؤن کی یہ کتاب جو نبی ہندوستان پہنچی ان مخالفین احمدیت نے جو پورے قصیدہ کو الاربعین سے خارج کر کے اپنے خیال میں اس کے اثرات کو معدوم اور اس کی اہمیت کو ختم کئے بیٹھے تھے یکا یک میدان مخالفت میں آگئے اور انہوں نے مسٹر براؤن کو بنیاد قرار دے کر یہ پروپیگنڈا شروع کر دیا کہ بس اب مغرب کے فاضل محققوں کی تحقیق نے ثابت کر دیا کہ قصیدہ میں مہدی کا نام محمد لکھا تھا مگر مرزا صاحب نے احمد کر دیا۔( کاشف مغالطه قادیانی فی رد نشان آسمانی مطبوعه گلزار ہند پریس لاہور ) اس طرح محض احمدیت سے تعصب و عناد کے باعث دشمنان اسلام کی سازش سے تحریف شدہ قصیدہ اصلی قصیدہ قرار پا گیا اور اب اسی کو بکثرت شائع کیا جاتا ہے۔جیسا کہ راقم الحروف نے رسالہ ”الفرقان“ (ربوہ جنوری 1972ء) میں پوری کے اسلامیہ کالج پشاور کی لائبریری میں دیوان شاہ نعمت اللہ ولی کا ایک قدیم قلمی نسخہ موجود ہے۔ملاحظہ ہو فہرست کتب صفحہ 191-190 مگر اس مخطوطہ میں بھی نہیں ہے