اسلامی جہاد کی حقیقت

by Other Authors

Page 5 of 17

اسلامی جہاد کی حقیقت — Page 5

کی۔اور کسی کو بلا وجہ جانی و مالی نقصان پہنچانے کی کوشش نہیں کی۔یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ ہمارے ملک بھارت میں شری رام چندر جی مہاراج نے امن وشانتی کا قیام فرمایا۔مگر آپ کو بھی حالات نے اس حد تک مجبور کر دیا، کہ آپ نے انکا پر حملہ کر کے راون کو ہلاک کیا، اور اُس کا ناش کیا۔اور آج تک ہمارے ہندو دوست دسہرہ کے موقعہ پر راون" کے پتلے کو تیر مارتے اور جلاتے ہیں۔اگر سید نا محمد مصطفی سایشی پیام نے اپنے زمانے کے راونوں سے اپنے آپ کو اور انسانیت کو بچانے کے لئے اُن کا مقابلہ کیا، یا ان کے خلاف چھوٹا جہاد جہاد اصغر ) کر کے ہلاک کیا تو اس میں کون سی حیرت و تعجب کی بات ہے؟ اسی طرح شری کرشن جی مہاراج کے حکم پر ہی کو روکشیتر کے میدان میں اٹھارہ دن مہا بھارت کی جنگ لڑی گئی ، جب ارجن اپنی کمان پھینک کر بے دل ہو کر بیٹھ گیا، اور جنگ سے انکار کر دیا، تو شری کرشن جی مہاراج نے اُسے جنگ کی تعلیم دی۔باوجود اس کے کہ اس کے مخالفین میں اس کے قریبی رشتے دار اور محترم استاد درونا چار یہ بھی شامل تھے۔اگر اسی طرح کی تعلیم آنحضرت صلی یا ایتم نے اپنے ساتھیوں کو اپنے دفاع کے لئے دی تو اس میں باعث اعتراض کیا ہے؟ مذہب اسلام، سلامتی فراہم کرنے والا مذہب ہے۔آنحضرت صلی یا یہ تم نے فرمایا کہ الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ وَالمُؤْمِنُ مَنْ أَمِنَهُ النَّاسُ عَلَى دِمَائِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ ( مشکوۃ کتاب الایمان) مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے امن پسند لوگ محفوظ رہیں اور مومن وہ ہے جس سے لوگوں کے مال اور جانیں محفوظ رہیں۔اسلام کے بانی سید نامحمد صلی ا یہ تم کواللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔اسلام کی بنیادی تعلیم لا اکراہ فی الدین ہے، یعنی دین کے معاملے میں کسی قسم کا جبر 5