اسلامی جہاد کی حقیقت

by Other Authors

Page 11 of 17

اسلامی جہاد کی حقیقت — Page 11

السيف و انما الجهاد هو الدعوة الى كتاب الله سنّة رسوله والتمسك بها و المشابرة على ذلك مهما اعترضتنا المشاكل اولمصاعب او المتاعب (ام القرى مكة معظمة ۲۴ اپریل ۱۹۶۵)اے معزز بھائیو! تم سب کو جہاد فی سبیل اللہ کا علم بلند کرنے کے لئے بلایا گیا ہے۔جہاد صرف بندوق اٹھانے یا تلوار لہرانے کا نام نہیں، بلکہ جہاد تو اللہ کی کتاب اور اُس کے رسول کی سنت کی طرف دعوت دینے ، ان پر عمل پیرا ہونے اور ہر قسم کی مشکلات، دقتوں اور تکالیف کے باوجود استقلال سے اس پر قائم رہنے کا نام ہے۔ایک زمانہ میں جب سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اعلان فرما یا کہ یہ زمانہ قلمی جہاد کا ہے اس زمانے میں کتاب اللہ قرآن مجید اور رسول کریم صلی یا اسلام کی سنت کے احیاء کو بذریعہ تحریری و تقریری دلائل ثابت کرنے کی ضرورت ہے تو اس پر طعن و تشنیع کی گئی۔اللہ تعالیٰ کی شان دیکھئے کہ اسی طرح کا اعلان مکہ مکرمہ سے شاہ فیصل کرنے پر مجبور ہوئے۔یہاں اختصار سے ایک اور بات کا ذکر بھی بہت ضروری ہے۔آج کل دنیا میں گویا یہ ایک فیشن بن گیا ہے کہ اگر دنیا کے کسی کونے میں دہشت گردی کا کوئی واقعہ ہو جائے تو اُسے ہمارے ملک اور دنیا کے بعض اخبارات اور نشریاتی ادارے فوراً اسلامک دہشت گردی کا نام دے دیتے ہیں۔ایسی اخبارات پر حیرت ہوتی ہے، اگر کسی دوسرے مذہب کے لوگ اسی قسم کی کاروائیاں کریں، تو اُن کی کاروائیاں ان کے مذہب کی طرف منسوب نہیں کرتے۔مثال کے طور پر اگر امریکہ ہیروشیما نا گا سا کی پر ایٹم بم گرائے یا امریکہ و برطانیہ افغانستان اور عراق پر بم باری کریں تو اس کا روائی کو مسیحی دہشت گردی نہیں کہا جاتا۔اگر جنرل ڈائر جلیانوالا باغ میں سینکڑوں بھارتیوں کو گولیوں سے بھون دے تو اسے بھی عیسائی دہشت گردی کا نام نہیں دیا جاتا۔اگر یہود عربوں کے گھروں کو تہس نہس کر دیں تو اسے بھی یہودی دہشت گردی نہیں کہا جاتا۔لیکن اگر کوئی مسلمان اسلام دشمن طاقتوں کے اشارے پر یا