اسلامی جہاد کی حقیقت

by Other Authors

Page 13 of 17

اسلامی جہاد کی حقیقت — Page 13

ڈھالیں ،مگر ہم سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس تعلیم کو کبھی فراموش نہیں کر سکتے ؎ اے دل تو نیز خاطر ایناں نگاہ دار کاخر کنند دعوی حُبّ پیمبرم اے میرے دل یہ جو مسلمان تیری مخالفت و دشمنی کر رہے ہیں آخر تیرے محبوب رسول صلی اسلام کی طرف منسوب ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، اس محبوب رسول کی خاطر ہی ان سے بھلائی کا سلوک کرتا چلا جا۔اس تعلیم کی بناء پر ہم اُن مسلمانوں سے جو دنیا کے کسی بھی خطے میں جہاد کے نام پر کوئی بھی ایسا کام جو آنحضرت سال یا پریم کی تعلیم کے خلاف ہو اور اسلام کو بدنام کرنے کا باعث ہورہاہو چھوڑنے کی درخواست کرتے ہیں۔اور مسلمانوں پر آنے والے مصائب کی حقیقی وجہ تلاش کر کے اس کے ازالہ کی طرف متوجہ ہونے کی اپیل کرتے ہیں ان مصائب کی جو وجہ حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی تھی ، وہی حقیقی وجہ اور وہی حقیقی علاج ہے۔حضور رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ ادبار اور تنزل کا دور اور یہ بار بار کے مصائب حقیقت میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلو و السلام کے انکار کا نتیجہ ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں ہے اس لئے آخری پیغام میرا یہی ہے کہ وقت کے امام کے سامنے سرتسلیم خم کرو۔خدا نے جس کو بھیجا ہے اس کو قبول کرو۔وہی ہے جو تمہاری سر براہی کی اہلیت رکھتا ہے۔اس کے بغیر اس سے علیحدہ ہو کر تم ایک ایسے جسم کی طرح ہو جس کا سر باقی نہ رہا ہو۔جس میں بظاہر جان ہو اور عضو پھڑک رہے ہوں۔(خطبہ جمعہ ۱۳ اگست ۱۹۹۰) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے انما الامام محبت کا حال من ورائہ وینیٹی پہ مسلم كتاب الامارۃ ) یقینا امام ڈھال ہوتا ہے، انکے پیچھے رہ کرلڑا جاتا ہے۔اور اس کے ذریعہ محفوظ رہا جاتا ہے۔اس فرمان رسول صلی یا یتیم کے مطابق کوئی جہاد بھی ”امام“ یعنی ڈھال کے بغیر ممکن نہیں۔(13