اسلامی جہاد کی حقیقت — Page 6
جائز نہیں فَمَنْ شَاءَ فَلْيُؤْ مِنْ وَمَنْ شَاءَ فَلْيَكْفُرُ (الکھف:۳۰) جو چاہے مان لے جو چاہے انکار کر دے۔اگر کوئی اسلام کو قبول نہیں کرتا تو اُسے کہہ دو لَكُمْ دِينُكُمْ وَلِيَ دین (الکافرون : ۷) تمہارے لئے تمہارا دین اور میرے لئے میرا دین ہے۔افسوس اور حیرت کی بات ہے کہ اسلام جو امن وسلامتی کا مذہب ہے۔اور وہ رسول جسے اللہ تعالیٰ نے رحمت بنا کر بھیجا مخالفین اسلام اور بعض مستشرقین کی طرف سے اس مذہب کو دہشت پیدا کرنے والا ، خون بہانے والا مذہب ثابت کرنے کی کوشش کی گئی۔اور جہاد کی غلط اور من گھڑت تفسیریں کر کے اُسے بد نام کرنے کی کوشش اب تک جاری ہے۔واضح ہو کہ ”جہاد“ عربی زبان کا لفظ ہے جو جھڈ سے بنا ہے، جس کے معنے مشقت برداشت کرنا ہے۔اور جہاد کے معنے ہیں، کسی کام کے کرنے میں پوری کوشش کرنا اور کسی قسم کی کمی نہ چھوڑنا۔ہم اردو میں بھی کہتے ہیں جدو جہد کرنا۔قرآن مجید اور احادیث میں جہاد کی بہت سی قسمیں بیان ہوئی ہیں۔حدیث میں آتا ہے عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ أَنَّهُ رَجَعَ مِنْ بَعْضِ غَزَوَاتِهِ فَقَالَ رَجَعْنَا مِنَ الْجِهَادِ الْأَصْغَرِ إلى الجِهَادِ الَّا كَبَرِ قِيلَ يَا رَسُولَ اللهِ وَمَا الجِهَادُ الاكْبَرُ قَالَ وَهِيَ مُجَاهِدَةُ النَّفْسِ - (رد المختار علی الدر المختار ج ۳ ص ۲۳۵) ایک دفعہ سیدنا محمد مصطفی سایا کہ تم ایک جنگ سے واپس لوٹ رہے تھے تو آپ نے فرمایا کہ ہم سب سے چھوٹے جہاد یعنی جنگ سے واپس آرہے ہیں اور سب سے بڑے جہاد (جہاد کبیر ) یعنی مجاہدہ نفس کی طرف جا رہے ہیں۔۔۔ایک دوسری حدیث میں ہے المُجَاهِدُ مَنْ جَاهَدَ نَفْسَهُ فِي طَاعَةِ اللَّهِ ( مشکوۃ کتاب الایمان ) مجاہد وہ ہے جو اللہ تعالیٰ