اسلامی جہاد کی حقیقت

by Other Authors

Page 4 of 17

اسلامی جہاد کی حقیقت — Page 4

تلخيص طاقت حاصل نہ تھی۔اس لئے آپ نے مقابلہ نہ کیا ، یہ خیال غلط اور بے بنیاد ہے۔تاریخ میں آتا ہے کہ مکہ میں مظلومیت کے ایام میں، آپ کے ایک ماننے والے حضرت عبد الرحمن بن عوف اور چند دوسرے مسلمانوں نے عرض کیا، یا رسول اللہ جب ہم مسلمان نہ تھے تو معزز تھے اور کوئی ہماری طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھ سکتا تھا۔اب یہ کفار ہم کو کمزور اور بزدل سمجھنے لگے ہیں ہمیں اجازت دیں کہ ہم ان کا مقابلہ کریں اور انہیں سبق سکھا ئیں۔حضرت محمد مصطفی سلی یا یہ تم نے جواباً فرمایا : إنى أمرتُ بالعَفُو فَلَا تُقَاتِلُوا مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے معاف کرنے کا حکم ہے۔پس میں تم کولڑنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔(تل) الصحاح جلدا صفحہ (۱۵۲) صحابہ رضوان الله عليهم نے سیدنا محمد مصطفی صلی یا یتیم کے حکم کے مطابق تیرہ سال تک ظالموں کے ظلموں کا مقابلہ صبر اور دعا سے کیا۔آخر وہ دن آیا، جب سید نا محمد لی ہیں کہ ہم اور آپ کے ساتھیوں نے ظالموں کے ظلم سے تنگ آکر اپنے آبائی وطن مکہ کو چھوڑ دیا، اور میثرب (مدینہ منورہ) کی طرف ہجرت فرما گئے ، مگر مکہ کے دشمنان اسلام نے وہاں بھی آپ کا پیچھا کر کے مسلمانوں کو ہلاک و تباہ کرنے کی کوششیں کی۔پندرہ سال مسلسل ظلم سہنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اجازت دی کہ أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقْتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ هِ الَّذِينَ أُخْرِجُوْا مِنْ دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقٍ إِلَّا أَنْ يَقُولُوا رَبُّنَا اللهُ ( الحج : ۴۰-۴۱) اُن لوگوں کو جن کے خلاف لڑائی کی جارہی ہے لڑائی کی اجازت دی جاتی ہے۔کیونکہ ان پر ظلم کئے گئے۔اور یقینا اللہ ان کی مدد پر پوری قدرت رکھتا ہے۔اس الہی اجازت کے بعد آنحضرت مصلانا اسلم اور مسلمانوں نے اپنے دفاع کے لئے لڑائیاں لڑیں۔مگر تاریخ شاہد ہے کہ ہمارے آقا نے کبھی کسی پر حملہ کرنے میں پہل نہیں 4۔